Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
141 - 764
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اس کلمہ سے ندا کی اورکہا: تم سے جو تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ نے عہد کیا ہے کہ تمہاری دعا مقبول ہے اور ایمان لانے والوں  اور ہدایت قبول کرنے والوں  پر سے اللہ تعالیٰ عذاب اٹھا لے گا، اس عہد کے سبب ہمارے لیے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے دعا کروکہ ہم سے یہ عذاب دور کر دے، بیشک ہم ہدایت پر آجائیں  گے اور ایمان قبول کر لیں  گے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دعا کی تو اُن پر سے عذاب اٹھالیا گیا، جب اللہ تعالیٰ نے ان سے وہ مصیبت ٹال دی تواسی وقت انہوں  نے اپنا عہد توڑدیا اور ایمان قبول کرنے کی بجائے اپنے کفر پر ہی اَڑے رہے۔( خازن، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۴۹، ۴/۱۰۷، مدارک، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۴۹، ص۱۱۰۲، ملتقطاً)
	نوٹ:یہ واقعہ سورۂ اَعراف کی آیت نمبر134اور135 میں  گزر چکا ہے۔
وَ نَادٰى فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِهٖ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَیْسَ لِیْ مُلْكُ مِصْرَ وَ هٰذِهِ الْاَنْهٰرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْۚ-اَفَلَا تُبْصِرُوْنَؕ(۵۱)
ترجمۂکنزالایمان:  اور فرعون اپنی قوم میں  پکارا کہ اے میری قوم کیا میرے لیے مصر کی سلطنت نہیں  اور یہ نہریں  کہ میرے نیچے بہتی ہیں  تو کیا تم دیکھتے نہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور فرعون نے اپنی قوم میں  اعلان کرکے کہا: اے میری قوم!کیا مصر کی بادشاہت میری نہیں  ہے اوریہ نہریں  جومیرے نیچے بہتی ہیں ؟ تو کیا تم دیکھتے نہیں ؟
{وَ نَادٰى فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِهٖ قَالَ: اور فرعون نے اپنی قوم میں  اعلان کرکے کہا۔} اس سے پہلی آیات میں  فرعون اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مابین ہونے والامعاملہ بیان کیا گیا اور اس آیت سے فرعون اور ا س کی قوم کے مابین ہونے والا معاملہ ذکر کیا جارہا ہے۔چنانچہ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ فرعون نے اپنی قوم میں  بڑے فخر کے ساتھ اعلان کرکے کہا: اے میری قوم!کیا مصر کی بادشاہت اور میرے محل کے نیچے بہنے والی دریائے نیل سے نکلی ہوئی بڑی بڑی نہریں  میری نہیں  ہیں ؟ تو کیا تم میری عظمت و قوت اور شان و سَطْوَت دیکھتے نہیں ؟