Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
140 - 764
ہوتی۔} یعنی ہر ایک نشانی اپنی خصوصیت میں  دوسری سے بڑھ چڑھ کرتھی، مراد یہ ہے کہ ایک سے ایک اعلیٰ تھی۔
{وَ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ: اور ہم نے انہیں  مصیبت میں  گرفتار کیا۔} یعنی جب فرعون اور اس کی قوم نے سرکشی کی تو ہم نے انہیں  مصیبت میں  گرفتار کیا تاکہ وہ اپنی حرکتوں  سے بازآجائیں  اور کفر چھوڑ کر ایمان کو اختیار کر لیں ۔یہ عذاب قحط سالی ، طوفان اور ٹڈی وغیرہ سے کئے گئے، یہ سب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نشانیاں  تھیں  جو اُن کی نبوت پر دلالت کرتی تھیں  اور ان میں  ایک سے ایک بلندو بالاتھی۔( خازن، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۴۸، ۴/۱۰۷)
	نوٹ:اس عذاب کی تفصیل جاننے کے لئے سورۂ اَعراف کی آیت نمبر133 کے تحت تفسیر ملاحظہ فرمائیں ۔
وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَ السّٰحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَۚ-اِنَّنَا لَمُهْتَدُوْنَ(۴۹)فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ(۵۰)
ترجمۂکنزالایمان:  اور بولے کہ اے جادوگر ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر اس عہد کے سبب جو اس کا تیرے پاس ہے بیشک ہم ہدایت پر آئیں  گے۔ پھر جب ہم نے اُن سے وہ مصیبت ٹال دی جبھی وہ عہد توڑ گئے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور انہوں  نے کہا: اے جادوکے علم والے ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اُس عہد کے سبب جو اس نے تم سے کیا ہے ۔بیشک ہم ہدایت پر آجائیں  گے۔ پھر جب ہم نے ان سے وہ مصیبت ٹال دی تواسی وقت انہوں  نے عہد توڑدیا۔
{وَ قَالُوْا: اور انہوں  نے کہا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب فرعون اور ا س کی قوم نے عذاب دیکھا تو انہوں  نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کہا ’’اے جادو کے علم والے!‘‘ یہ کلمہ اُن کے عرف اور مُحاورہ میں  بہت تعظیم وتکریم کا تھا، وہ لوگ عالِم، ماہر، حاذِق، اور کامل کو جادوگر کہا کرتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ اُن کی نظر میں  جادو کی بہت عظمت تھی اور وہ اسے قابلِ تعریف و صف سمجھتے تھے اس لئے انہوں نے اِلتجا کے وقت حضرت موسیٰ عَلَیْہِ