Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
142 - 764
	اللہ تعالیٰ کی عجیب شان ہے کہ خلیفہ ہارون رشید نے جب یہ آیت پڑھی اور مصر کی حکومت پر فرعون کا غرور دیکھا تو کہا ’’ میں  وہ مصر اپنے ایک ادنیٰ غلام کو دے دوں  گا، چنانچہ اُنہوں نے ملک ِمصر خصیب کو دے دیا جو اُن کا غلام تھا اور وضو کرانے کی خدمت پر مامور تھا۔( تفسیرکبیر ، الزّخرف ، تحت الآیۃ : ۵۱ ، ۹ / ۶۳۷ ، خازن ، الزّخرف ، تحت الآیۃ: ۵۱، ۴/۱۰۷، مدارک، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۵۱، ص۱۱۰۲-۱۱۰۳، ملتقطاً)
اَمْ اَنَا خَیْرٌ مِّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ مَهِیْنٌ ﳔ وَّ لَا یَكَادُ یُبِیْنُ(۵۲)
ترجمۂکنزالایمان:  یا میں  بہتر ہوں  اس سے کہ ذلیل ہے اور بات صاف کرتا معلوم نہیں  ہوتا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یا میں  اس سے بہتر ہوں جو معمولی سا آدمی ہے اور صاف طریقے سے باتیں  کرتا معلوم نہیں  ہوتا۔
{اَمْ اَنَا خَیْرٌ مِّنْ هٰذَا: یا میں  اس سے بہتر ہوں ۔} فرعون نے کہا کہ کیا تمہارے نزدیک ثابت ہوگیا اور تم نے سمجھ لیا کہ میں  اس سے بہتر ہوں  جو کمزوراور حقیرسا آدمی ہے اور جواپنی بات بھی صاف طریقے سے بیان کرتا معلوم نہیں  ہوتا۔
	یہ اس ملعون نے جھوٹ کہا کیونکہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے زبانِ اَقدس کی وہ گِرہ زائل کردی تھی لیکن فرعونی اپنے پہلے ہی خیال میں  تھے۔ (روح البیان، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۵۲، ۸/۳۷۸)
	اس آیت سے معلوم ہوا کہ اپنے آپ کونبی سے اعلیٰ کہنا یا نبی کو ذلت کے الفاظ سے یاد کرنا فرعونی کفر ہے ۔
فَلَوْ لَاۤ اُلْقِیَ عَلَیْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَآءَ مَعَهُ الْمَلٰٓىٕكَةُ مُقْتَرِنِیْنَ(۵۳)
ترجمۂکنزالایمان:  تو اس پر کیوں  نہ ڈالے گئے سونے کے کنگن یا اس کے ساتھ فرشتے آتے کہ اس کے پاس رہتے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: (اگر یہ رسول ہے)تو اس پر سونے کے کنگن کیوں  نہ ڈالے گئے؟ یا اس کے ساتھ قطار بنا کرفرشتے آتے؟