اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا کی حیثیت اور حقیقت سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور کافروں کے مال و دولت کی چمک سے مُتَأثِّر ہونے کی بجائے دینِ اسلام کے دئیے ہوئے اَحکام اور تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ہمیں اپنی دنیا و آخرت دونوں کو بہتر بنانے کی توفیق عطا فرمائے ،اٰمین۔
وَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَهٗ شَیْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِیْنٌ(۳۶)
ترجمۂکنزالایمان: اور جسے رَ تُوند آئے رحمن کے ذکر سے ہم اس پر ایک شیطان تعینات کریں کہ وہ اس کا ساتھی رہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جو رحمن کے ذکر سے منہ پھیرے توہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں تو وہ اس کا ساتھی رہتاہے۔
{وَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ: اور جو رحمن کے ذکر سے منہ پھیرے۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ جو قرآنِ پاک سے اس طرح اندھا بن جائے کہ نہ اس کی ہدایتوں کو دیکھے اور نہ ان سے فائدہ اٹھائے توہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں اوروہ شیطان دنیامیں بھی اندھا بننے والے کا ساتھی رہتا ہے کہ اسے حلال کاموں سے روکتا اور حرام کاموں کی ترغیب دیتا ہے،اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے منع کرتا اور اس کی نافرمانی کرنے کا حکم دیتا ہے اور آخرت میں بھی اس کا ساتھی ہو گا۔( صاوی، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۳۶، ۵/۱۸۹۴-۱۸۹۵، ملتقطاً)
دوسری تفسیریہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اس طرح اِعراض کرے کہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بے خوف ہو جائے اور اس کے عذاب سے نہ ڈرے توہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں جو اسے گمراہ کرتا رہتا ہے اور وہ اس شیطان کا ساتھی بن جاتا ہے۔( تفسیرطبری، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۳۶، ۱۱/۱۸۸)
تیسری تفسیر یہ ہے کہ جو دُنْیَوی زندگی کی لذّتوں اور آسائشوں میں زیادہ مشغولیّت اورا س کی فانی نعمتوں اور نفسانی خواہشات میں اِنہماک کی وجہ سے قرآن سے منہ پھیرے تو ہم اس پر ایک شیطان مقرر کر دیتے ہیں اور وہ