Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
129 - 764
شیطان اس کے ساتھ ہی رہتا ہے اور اس کے دل میں  وسوسے ڈال کر اسے گمراہ کرتا رہتا ہے۔ (ابوسعود، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۳۶، ۵/۵۴۳)
قرآن سے منہ پھیرنے والے کا ساتھی شیطان ہو گا:
	اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرآن سے منہ پھیرنے والے کافر کا شیطان ساتھی بنا دیا جاتا ہے اورشیطان کو کافروں  کا ساتھی بنانے سے متعلق ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’وَ قَیَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِۚ-اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ‘‘(حم السجدہ:۲)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم نے کافروں  کیلئے کچھ ساتھی مقرر کردئیے توانہوں  نے ان کیلئے ان کے آگے اور ان کے پیچھے کو خوبصورت بنا دیا۔ ان پر بات پوری ہوگئی جو ان سے پہلے گزرے ہوئے جنوں  اور انسانوں  کے گروہوں  پرثابت ہوچکی ہے۔ بیشک وہ نقصان اٹھانے والے تھے۔
	اورحضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ شَر کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کی موت سے ایک سال پہلے اس پر ایک شیطان مقرر کر دیتا ہے تو وہ جب بھی کسی نیک کام کو دیکھتا ہے وہ اسے برا معلوم ہوتاہے یہاں  تک کہ وہ اس پر عمل نہیں  کرتا اور جب بھی وہ کسی برے کام کو دیکھتا ہے تو وہ اسے اچھا معلوم ہوتا ہے یہاں  تک کہ وہ اس پر عمل کرلیتا ہے۔( مسندالفردوس، باب الالف، ۱/۲۴۵، الحدیث: ۹۴۸)
	البتہ یہاں  یہ بات ذہن نشین رہے کہ زیرِ تفسیر آیت میں  جہاں  کفار کے لئے وعید ہے وہیں  ہمارے معاشرے کے ان مسلمانوں  کے لئے بھی بڑی عبرت ہے جو دنیا کی زیب و زینت ، اس کی چمک دمک اور مال و دولت کے حصول میں  حد درجہ مصروفیَّت کی وجہ سے قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے ،اسے سمجھنے او ر ا س پر عمل کرنے سے محروم ہیں ۔ اللہ تعالیٰ انہیں  ہدایت اور عقلِ سلیم عطا فرمائے اور قرآنِ مجید سے تعلق قائم رکھا رہنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔
	 یاد رہے کہ زیرِ تفسیر آیت میں  جس شیطان کا ذکر ہے یہ اس شیطان کے علاوہ ہے جس کا ذکر درج ذیل حدیثِ پاک میں  ہے،چنانچہ