Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
127 - 764
لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖؕ-ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ‘‘(حدید:۲۱)
آسمان و زمین کی وسعت کی طرح ہے۔ اللہ اور اس کے سب رسولوں  پر ایمان لانے والوں  کیلئے تیار کی گئی ہے ،یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔
	اور اس پر اِستقامت پانے کے لئے ا س حقیقت کو اپنے پیش ِنظر رکھنا چاہئے کہ دنیا کا جتنا سازو سامان اور جتنی عیش و عشرت ہے، ا س سب کی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  مچھر کے پر جتنی بھی حیثیت نہیں ،جیساکہ حضرت سہل بن سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اگراللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا مچھر کے پر کے برابر بھی قدررکھتی توکافرکو اس سے ایک گھونٹ پانی نہ دیتا۔ (ترمذی، کتاب الزہد، باب ما جاء فی ہوان الدّنیا علی اللّٰہ، ۴/۱۴۳، الحدیث: ۲۳۲۷)
	اور حضرت مُستَورِد بن شداد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے مروی ہے،نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنے نیاز مندوں  کی ایک جماعت کے ساتھ تشریف لے جارہے تھے، راستہ میں  ایک مردہ بکری دیکھی تو ارشاد فرمایا: ’’تم دیکھ رہے ہو کہ اس کے مالکوں  نے اسے بہت بے قدری سے پھینک دیا، دنیا کی اللہ تعالیٰ کے نزدیک اتنی بھی قدر نہیں  جتنی بکری والوں کے نزدیک اس مری ہوئی بکری کی ہو۔( ترمذی، کتاب الزہد، باب ما جاء فی ہوان الدّنیا علی اللّٰہ، ۴/۱۴۴، الحدیث: ۲۳۲۸)
	اور جب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  دنیا کی یہ حیثیت ہے تو دنیا کا مال و دولت اور عیش و عشرت نہ ملنے پر کسی مسلمان کو غمزدہ نہیں ہونا چاہئے بلکہ اسے شکر کرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس چیز سے بچا لیا جس کی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  کوئی حیثیت نہیں  ۔ حضرت قتادہ بن نعمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے پر کرم فرماتا ہے تو اُسے دنیا سے ایسا بچاتا ہے جیسا تم اپنے بیمار کو پانی سے بچاتے ہو۔( ترمذی، کتاب الطّب، باب ما جاء فی الحمیۃ، ۴/۴، الحدیث: ۲۰۴۴)
	اورحضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لئے جنت ہے۔( مسلم، کتاب الزہد والرقائق، ص۱۵۸۲، الحدیث: ۱(۲۹۵۶))