Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
115 - 764
{سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ:اب ان کی گواہی لکھ لی جائے گی۔} جب کفار نے فرشتوں  کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں  کہا توسرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کفار سے دریافت فرمایا کہ تم فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں  کس طرح کہتے ہو اورتمہارا ذریعہ ٔعلم کیا ہے؟ اُنہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا سے سنا ہے اور ہم گواہی دیتے ہیں  کہ وہ سچے تھے۔ اس گواہی کے بارے میں  اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کفار کی یہ گواہی لکھ لی جائے گی اورآخرت میں  ان سے اس کا جواب طلب ہوگا اور اس پر انہیں سزا دی جائے گی۔ (خازن، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۱۹، ۴/۱۰۳)
وَ قَالُوْا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰهُمْؕ-مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍۗ-اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَؕ(۲۰)
ترجمۂکنزالایمان:  اور بولے اگر رحمن چاہتا ہم اُنہیں  نہ پوجتے اُنہیں  اس کی حقیقت کچھ معلوم نہیں  یونہی اٹکلیں  دوڑاتے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اورانہوں  نے کہا: اگر رحمن چاہتا توہم ان (فرشتوں ) کی عبادت نہ کرتے۔ انہیں  درحقیقت اس کا کچھ علم ہی نہیں ۔ وہ صرف جھوٹ بول رہے ہیں ۔
{وَ قَالُوْا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰهُمْ: اورانہوں  نے کہا: اگر رحمن چاہتا توہم ان (فرشتوں ) کی عبادت نہ کرتے۔} فرشتوں  کی عبادت کرنے والے کفار نے کہا کہ اگر رحمن چاہتا توہم ان فرشتوں  کی عبادت نہ کرتے۔اس سے ان کا مطلب یہ تھا کہ اگر فرشتوں  کی عبادت کرنے سے اللہ تعالیٰ راضی نہ ہوتا تو ہم پر عذاب نازل کرتا اور جب عذاب نہیں  آیا تو ہم سمجھتے ہیں  کہ وہ یہی چاہتا ہے ،یہ اُنہوں نے ایسی باطل بات کہی جس سے لازم آتا ہے کہ دنیا میں  ہونے والے تما م جرموں  سے اللہ تعالیٰ راضی ہے۔اللہ تعالیٰ اُن کے اس نظریے کی تکذیب کرتے ہوئے فرماتا ہے: ’’انہیں  درحقیقت اللہ تعالیٰ کی رضا کاکچھ علم ہی نہیں  اور وہ صرف جھوٹ بول رہے ہیں ۔( خازن، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۲۰، ۴/۱۰۳-۱۰۴، روح البیان، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۲۰، ۸/۳۶۰، ملتقطاً)