ہیں اور بحث کے دوران اپنا مَوقِف بڑے اچھے انداز میں بیان کر سکتی ہیں البتہ عورتوں کی کثیر تعداد ایسی ہے جو اس خوبی سے آراستہ نہیں ،بلکہ عموماً جذبات سے جلد مغلوب ہو کر یا سختی کے مقامات پراپنی بات صحیح طریقے سے نہیں کرپاتی لہٰذا مجموعی اعتبار سے دیکھا جائے تو بحث کے دوران اپنا مَوقِف صاف اور واضح طور پر بیان نہ کر پانا بھی عورت کا ایک نقص ہے۔
وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓىٕكَةَ الَّذِیْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًاؕ-اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْؕ-سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَ یُسْــٴَـلُوْنَ(۱۹)
ترجمۂکنزالایمان: اور انہوں نے فرشتوں کو کہ رحمن کے بندے ہیں عورتیں ٹھہرایا کیا ان کے بناتے وقت یہ حاضر تھے اب لکھ لی جائے گی اُن کی گواہی اور ان سے جواب طلب ہوگا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور انہوں نے فرشتوں کو عورتیں ٹھہرایا جو کہ رحمن کے بندے ہیں ۔کیا یہ کفار ان کے بناتے وقت موجودتھے؟اب ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور ان سے جواب طلب ہوگا۔
{وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓىٕكَةَ الَّذِیْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا: اور انہوں نے فرشتوں کو عورتیں ٹھہرایا جو کہ رحمن کے بندے ہیں ۔} آیت کے اس حصے اور اس سے اوپر والی آیات کا حاصل یہ ہے کہ بے دینوں نے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بتا کراس طرح کفر کا اِرتکاب کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف اولاد کی نسبت کی اور اس چیز کواللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جسے وہ خود بہت ہی حقیر سمجھتے ہیں اور اپنے لئے گوارانہیں کرتے۔ اس کے بعد کفار کا رد فرمایا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہر گز نہیں بلکہ وہ اس کے بندے ہیں اور فرشتوں کا مُذَکّر یا مُؤنّث ہونا ایسی چیز تو ہے نہیں جس پر کوئی عقلی دلیل قائم ہوسکے اوراس حوالے سے اُن کے پاس کوئی خبر بھی نہیں آئی جسے وہ نقلی دلیل قرار دے سکیں ، توجو کفار ان کو مُؤنّث قرار دیتے ہیں اُن کا ذریعۂ علم کیا ہے؟ کیا وہ فرشتوں کی پیدائش کے وقت موجود تھے اوراُنہوں نے مشاہدہ کرلیا ہے؟ جب یہ بھی نہیں تو انہیں مُؤنّث کہنامحض جاہلانہ اورگمراہی کی بات ہے۔( مدارک، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۱۵-۱۹، ص۱۰۹۷، ملخصاً)