اللہ تعالیٰ کی مَشِیَّت اور رضا میں بہت فرق ہے:
یا درہے کہ اللہ تعالیٰ کی مَشِیَّت اور رضا میں بہت فرق ہے ،اس کائنات میں ہونے والی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی مَشِیَّت اورا س کے ا رادے سے ہوتی ہے لیکن ایسا نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے راضی ہو اور ہر چیزکے کرنے کا اللہ تعالیٰ حکم فرمائے ،اور اللہ تعالیٰ کی یہ شان ہر گز نہیں کہ وہ کفر اورگناہ سے راضی ہو، لہٰذا کفر اورگناہ کرنے والا یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ تعالیٰ میرے ان اعمال سے راضی ہے یا میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی وجہ سے کفر اور گناہ میں مصروف ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے سامنے سعادت اور بد بختی دونوں کے راستے واضح فرما دئیے ہیں اوراسے محض مجبور اور بے بس نہیں بنایا بلکہ ان راستوں میں سے کسی ایک راستے پر چلنے کا اسے اختیار بھی دے دیا ہے ،اب انسان کی اپنی مرضی ہے کہ وہ جس راستے کو چاہے اختیار کرے ۔
اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا مِّنْ قَبْلِهٖ فَهُمْ بِهٖ مُسْتَمْسِكُوْنَ(۲۱)
ترجمۂکنزالایمان: یا اس سے قبل ہم نے اُنہیں کوئی کتاب دی ہے جسے وہ تھامے ہوئے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یاکیا اس سے پہلے ہم نے انہیں کوئی کتاب دی ہے جسے وہ مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں ؟
{اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا مِّنْ قَبْلِهٖ: یاکیا اس سے پہلے ہم نے انہیں کوئی کتاب دی ہے۔} یعنی کیا فرشتوں کی عبادت میں اللہ تعالیٰ کی رضا سمجھنے والوں کو ہم نے رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر نازل ہونے والے قرآن سے پہلے کوئی کتاب دی ہے جسے وہ مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں اور اس میں غیر ِخدا کی عبادت کرنے کی اجازت دی گئی ہے جسے وہ آپ کے سامنے دلیل کے طور پر پیش کر رہے ہیں ؟ایسا بھی نہیں کیونکہ عرب شریف میں قرآنِ کریم کے سوا کوئی اللہ تعالیٰ کی کتاب نہ آئی، اور کسی کتابِ الٰہی میں کفر کی اجازت ہو سکتی بھی نہیں ،یہ باطل ہے اور اُن لوگوں کے پاس اس کے سوا بھی کوئی حجت نہیں ہے۔( تفسیرطبری، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۲۱، ۱۱/۱۷۶، خازن، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۲۱، ۴/۱۰۴، ملتقطاً)