کیونکہ ایسی عورت برکت والی ہوتی ہے،جیساکہ حضرت واثلہ بن اسقع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’عورت کی برکت یہ ہے کہ ا س سے پہلی بار بیٹی پیدا ہو۔( ابن عساکر، ذکر من اسمہ: العلائ، ۵۴۷۳-العلاء بن کثیر ابو سعید، ۴۷/۲۲۵)
اَوَ مَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَةِ وَ هُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ(۱۸)
ترجمۂکنزالایمان: اور کیا وہ جو گہنے میں پروان چڑھے اور بحث میں صاف بات نہ کرے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کیا وہ جس کی زیور میں پرورش کی جاتی ہے اور وہ بحث میں صاف بات کرنے والی بھی نہیں ہوتی۔
{اَوَ مَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَةِ: اور کیا وہ جس کی زیور میں پرورش کی جاتی ہے۔} اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ اولاد سے پاک ہے اورجب کفار نے اللہ تعالیٰ کے لئے بیٹیاں بتا کر اس کی اولاد ثابت کی تواللہ تعالیٰ نے ان کی عقل اور فہم کے مطابق کلام فرماتے ہوئے ان کے اس نظریے کو رد فرمایا اوراس آیت میں عورت کے اندر پائے جانے والے دو نقص بیان فرما کر کفارکی کم عقلی اور جہالت کو واضح فرمایا کہ جس میں دیگر خوبیوں کے ساتھ ساتھ ایسے نقص بھی ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی اولاد کس طرح ہو سکتی ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دینا کیسی جہالت ہے۔اس آیت میں عورت کے جو دو نقص بیان کئے گئے وہ یہ ہیں ۔
(1)…زیور میں پرورش پانا۔اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ عورت چاہے کتنی ہی خوبصورت کیوں نہ ہو لیکن اس میں بچپن سے لے کر جوانی بلکہ بڑھاپے تک زیورات سے آراستہ ہونے کی خواہش اور طلب ضرور پائی جاتی ہے اور اس کے بغیر وہ اپنے حسن کے متعلق احساسِ کمتری محسوس کرتی رہتی ہے اور یہ بات نزاکت کی علامت ہے جو ایک اعتبار سے تو خوبی ہے لیکن ایک اعتبار سے نقص بھی ہے۔
(2)…بحث کے دوران اپنا موقف صاف بیان نہ کرسکنا۔اس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ جس طرح بہت سے مرد ذہین ہوتے ہیں اور بحث کے دوران اپنا موقف انتہائی اچھے انداز میں پیش کر سکتے ہیں جبکہ بعض مَردوں میں ذہانت کی کمی اور اپنا موقف اچھے انداز میں پیش کرنے کی خوبی نہیں ہوتی اسی طرح بعض عورتیں بھی انتہائی ذہین ہوتی