ترجمۂکنزالایمان: اور جب اُن میں کسی کو خوشخبری دی جائے اُس چیز کی جس کا وصف رحمن کے لیے بتاچکا ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہے اور غم کھایا کرے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب ان میں کسی کو اس چیز کی خوشخبری سنائی جائے جس کے ساتھ اس نے رحمن کو متصف کیا ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ غم و غصے میں بھرا رہتا ہے۔
{ وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا: اور جب ان میں کسی کو اس چیز کی خوشخبری سنائی جائے جس کے ساتھ اس نے رحمن کو متصف کیا ہے۔} یعنی کفار جو کہ اولاد سے پاک رب تعالیٰ کے لئے بیٹیا ں ثابت کر رہے ہیں ، بیٹیوں سے نفرت میں ان کا اپنا حال یہ ہے کہ جب ان میں سے کسی کو خوشخبری سنائی جائے کہ تیرے گھرمیں بیٹی پیدا ہوئی ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ غم و غصے میں بھرا رہتا ہے۔جب یہ اپنے لئے بیٹیوں کو اس قدر ناگوار سمجھتے ہیں تو اس خدائے پاک کے لئے بیٹیاں بتاتے ہوئے انہیں شرم نہیں آتی۔( خازن، الزخرف، تحت الآیۃ: ۱۷، ۴/۱۰۳، ملتقطاً)
بیٹیوں سے نفرت کرنا اور ان کی پیدائش سے گھبرانا کفار کا طریقہ ہے:
کفار کا اپنی بیٹیوں سے نفرت کا حال بیان کرتے ہوئے ایک اورمقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌۚ(۵۸) یَتَوَارٰى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓءِ مَا بُشِّرَ بِهٖؕ-اَیُمْسِكُهٗ عَلٰى هُوْنٍ اَمْ یَدُسُّهٗ فِی التُّرَابِؕ-اَلَا سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ‘‘(سورۃ النحل:۵۸،۵۹)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب ان میں کسی کو بیٹی ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ غصے سے بھراہوتا ہے۔ اس بشارت کی برائی کے سبب لوگوں سے چھپا پھرتا ہے ۔ کیا اسے ذلت کے ساتھ رکھے گا یا اسے مٹی میں دبادے گا؟ خبردار! یہ کتنا برا فیصلہ کررہے ہیں ۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ لڑکیوں کی پیدائش سے گھبرانا کافروں کا طریقہ ہے لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ بیٹی پیدا ہونے پر گھبرانے کی بجائے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور جس عورت کے ہاں پہلی اولاد بیٹی ہو اسے منحوس نہ سمجھیں