Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
111 - 764
ترجمۂکنزالایمان:  اور اس کے لیے اس کے بندوں  میں  سے ٹکڑا ٹھہرایا بے شک آدمی ُکھلا ناشکرا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:  اور کافروں  نے اللہ کیلئے اس کے بندوں  میں  سے ٹکڑا (اولاد) قراردیا۔ بیشک آدمی کھلا ناشکرا ہے۔
{وَ جَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا: اور کافروں  نے اللہ کیلئے اس کے بندوں  میں  سے ٹکڑا (اولاد) قرار دیا۔} یعنی کفار نے اس اقرار کے باوجود کہ اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کا خالق ہے ،یہ ستم کیا کہ فرشتوں  کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں  بتایا اور چونکہ اولاد صاحب ِاولاد کا جز ہوتی ہے، توظالموں  نے اللہ تعالیٰ کے لئے جزقرار دے کر کیسا عظیم جرم کیا ہے، بیشک جو آدمی ایسی باتوں  کا قائل ہے اس کا کفر ظاہر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف اولاد کی نسبت کرناکفر ہے اور کفر سب سے بڑی ناشکری ہے۔( دارک، الزخرف، تحت الآیۃ: ۱۵، ص۱۰۹۷، جلالین، الزخرف، تحت الآیۃ: ۱۵، ص۴۰۶، ملتقطاً)
اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصْفٰىكُمْ بِالْبَنِیْنَ(۱۶)
ترجمۂکنزالایمان:  کیا اس نے اپنے لیے اپنی مخلوق میں  سے بیٹیاں  لیں  اور تمہیں  بیٹوں  کے ساتھ خاص کیا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا اس نے اپنے لیے اپنی مخلوق میں  سے بیٹیاں  لیں  اور تمہیں  بیٹوں  کے ساتھ خاص کیا؟
{اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ: کیا اس نے اپنے لیے اپنی مخلوق میں  سے بیٹیاں  لیں ۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے سرے سے اولاد محال ہونے کے باوجود اگر بالفرض اس کے لئے اولاد مان لی جائے تو کیا اس نے اپنے لیے اپنی مخلوق میں  سے بیٹیاں  لیں  اور تمہیں  خاص طور پر بیٹوں  سے نوازا؟ حالانکہ تم بیٹیوں  کو بیٹوں  سے کم تر سمجھتے ہو تو کیا اس نے کم تر چیز اپنے لئے رکھی اور اعلیٰ چیز تمہیں  عطا کی ؟تم کیسے جاہل ہو !
وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌ(۱۷)