Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
110 - 764
بنائیں  تاکہ تم خشکی اور تری کے سفر میں  کشتیوں  کی پشت اور چوپایوں  کی پیٹھوں  پر سیدھے ہو کر بیٹھو ،پھر جب اس سواری پر سیدھے ہو کر بیٹھ جاؤ تو دل میں اپنے رب کا احسان یاد کرو اور اپنی زبان سے یوں  کہو: وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہر عیب سے پاک ہے جس نے اس سواری کو ہمارے قابو میں  کردیا اور ہم اسے قابوکرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے اور بیشک ہم آخر کار اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف ہی پلٹنے والے ہیں ۔( خازن،الزخرف،تحت الآیۃ:۱۲-۱۴،۴/۱۰۲، جلالین مع صاوی،الزخرف،تحت الآیۃ:۱۲-۱۴، ۵/۱۸۸۸، ملتقطاً)
سواری پر سوار ہوتے وقت کی دعائیں :
	 حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  کہ حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جب سفر میں  تشریف لے جاتے تو اپنی اونٹنی پر سوار ہوتے وقت پہلے تین بار اللہ اَکْبَرْ پڑھتے، پھر یہ آیت پڑھتے ’’سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِیْنَۙ(۱۳) وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ‘‘۔ (اور اس کے بعدیہ دعائیں  پڑھتے)۔ ’’اَللّٰہمَّ اِنَّا نَسْاَلُکَ فِی سَفَرِنَا ہَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوٰی وَ مِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضٰی اللہمَّ ہَوِّنْ عَلَیْنَا سَفَرَنَا ہٰذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَہٗ اللہمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ وَ الْخَلِیفَۃُ فِی الْاَہْلِ اللہمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ وَعْثَائِ السَّفَرِ وَکَآبَۃِ الْمَنْظَرِ وَسُوْئِ الْمُنْقَلَبِ فِی الْمَالِ وَالْاَہْلِ‘‘ اور جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو ان دعاؤں  کے ساتھ مزید یہ پڑھتے ’’آیِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ‘‘۔(مسلم، کتاب الحج، باب ما یقول اذا رکب الی سفر الحجّ وغیرہ، ص۷۰۰،  الحدیث: ۴۲۵(۱۳۴۲))
	 اورحضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے روایت ہے،حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ا رشاد فرمایا ،میری امت میں  سے جو شخص کشتی میں  سوار ہوتے وقت یہ پڑھ لے تو وہ ڈوبنے سے محفوظ رہے گا: ’’بِسْمِ اللہ الْمَلِکِ وَ مَا قَدَرُوا اللہ حَقَّ قَدْرِہٖ وَ الْاََرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَ السَّمَاوَاتُ مَطْوِیَّاتٌ بِیَمِینِہٖ سُبْحَانَہٗ وَ تَعَالٰی  عَمَّا یُشْرِکُونَo بِسْمِ اللہ مَجْرَاہَا وَ مُرْسَاہَا اِنَّ رَبِّی لَغَفُوْرٌ رَّحِیمٌ‘‘۔(معجم الاوسط، باب المیم، من اسمہ: محمد، ۴/۳۲۹، الحدیث: ۶۱۳۶)
وَ جَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًاؕ-اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِیْنٌؕ۠(۱۵)