Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
109 - 764
وَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَۙ(۱۲) لِتَسْتَوٗا عَلٰى ظُهُوْرِهٖ ثُمَّ تَذْكُرُوْا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْهِ وَ تَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِیْنَۙ(۱۳) وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ(۱۴)
ترجمۂکنزالایمان: اور جس نے سب جوڑے بنائے اور تمہارے لیے کشتیوں  اور چوپایوں  سے سواریاں  بنائیں ۔  کہ تم ان کی پیٹھوں  پر ٹھیک بیٹھو پھر اپنے رب کی نعمت یاد کرو جب اس پر ٹھیک بیٹھ لو اور یوں  کہو پاکی ہے اُسے جس نے اس سواری کو ہمارے بس میں  کردیا اور یہ ہمارے بُوتے کی نہ تھی۔  اور بے شک ہمیں  اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جس نے تمام جوڑوں  کو پیدا کیا اور تمہارے لیے کشتیوں  اور چوپایوں  کی سواریاں  بنائیں ۔ تاکہ تم ان کی پیٹھوں  پر سیدھے ہو کر بیٹھو پھر جب اس پر سیدھے ہو کر بیٹھ جاؤ تواپنے رب کا احسان یاد کرو اور یوں  کہو: پاک ہے وہ جس نے اس سواری کو ہمارے قابو میں  کردیا اور ہم اسے قابوکرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ اور بیشک ہم اپنے رب کی طرف ہی پلٹنے والے ہیں ۔
{وَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ: اور جس نے تمام جوڑوں  کو پیدا کیا۔} یعنی عزت و علم والا اللہ عَزَّوَجَلَّ وہی ہے جس نے مخلوق کی تمام اَقسام کے جوڑے بنائے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں :’’اس سے مراد یہ ہے کہ تمام اَنواع کے جوڑے بنائے جیسے میٹھا اور نمکین، سفید اور سیاہ،مُذَکَّر اور مُؤنَّث وغیرہ۔( روح البیان، الزخرف، تحت الآیۃ: ۱۲، ۸/۳۵۵)
{وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَ: اور تمہارے لیے کشتیوں  اور چوپایوں  کی سواریاں  بنائیں ۔} آیت کے اس حصے اور ا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اور تمہارے لیے کشتیوں  اور چوپایوں  کی سواریاں