ممکن نہ رہتا تو یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے زمین کو ہموار اور ساکن بنایا، اور ا س نے تمہارے لیے اس زمین میں راستے بنائے تاکہ تم دینی اور دُنْیَوی اُمور کے لئے سفر کے دوران اپنی منزل تک پہنچنے کی راہ پاؤ،اور اگر وہ چاہتا تو زمین کو ا س طرح بند بنا دیتا کہ اس میں کوئی راستہ ہی نہ چھوڑتا ،اگر ایسا ہو جاتا تو ا س صورت میں تمہارے لئے سفر کرنا ہی ممکن نہ رہتا جیساکہ بعض جگہ پہاڑ ہونے کی وجہ سے راستہ بند ہوجاتا ہے اور(زمینی) سفر ممکن نہیں رہتا۔( خازن، الزخرف، تحت الآیۃ: ۱۰، ۴/۱۰۲، صاوی، الزخرف، تحت الآیۃ: ۱۰، ۵/۱۸۸۷، ملتقطاً)
وَ الَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍۚ-فَاَنْشَرْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًاۚ-كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ(۱۱)
ترجمۂکنزالایمان: اور وہ جس نے آسمان سے پانی اُتارا ایک اندازے سے تو ہم نے اس سے ایک مردہ شہر زندہ فرما دیا یونہی تم نکالے جاؤ گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہ جس نے ایک اندازے سے آسمان سے پانی اتارا تو ہم نے اس سے ایک مردہ شہر کوزندہ فرمادیا۔ یونہی تم نکالے جاؤ گے۔
{وَ الَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ: اور وہ جس نے ایک اندازے سے آسمان سے پانی اتارا۔} ارشاد فرمایا کہ عزت و علم والا اللہ عَزَّوَجَلَّ وہی ہے جس نے تمہاری حاجتوں کی مقدار ایک اندازے سے آسمان سے پانی اتارا، وہ نہ اتنا کم ہے کہ اس سے تمہاری حاجتیں پوری نہ ہوں اور نہ اتنا زیادہ ہے کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی طرح تمہیں ہلاک کردے۔ ہم نے اس بارش سے نباتات سے خالی ایک شہر کوسرسبز فرمادیا اور جس طرح بارش سے مردہ شہر کو زندہ فرمایا یونہی تم اپنی قبروں سے زندہ کرکے نکالے جاؤ گے کیونکہ جو زمین کو بنجر ہو جانے کے بعد پانی کے ذریعے دوبارہ سر سبز و شاداب کرنے پر قادر ہے تو وہ مخلوق کو اس کی موت کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔( خازن، الزخرف، تحت الآیۃ: ۱۱، ۴/۱۰۲، جلالین مع صاوی، الزخرف، تحت الآیۃ: ۱۱، ۵/۱۸۸۷، ملتقطاً)