ترجمۂکنزالایمان: اور اگر تم اُن سے پوچھو کہ آسمان اور زمین کس نے بنائے تو ضرور کہیں گے اُنھیں بنایا اس عزت والے علم والے نے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمان اور زمین کس نے بنائے ؟تو ضرور کہیں گے: انہیں عزت والے، علم والے نے بنایا۔
{وَ لَىٕنْ سَاَلْتَهُمْ: اور اگر تم ان سے پوچھو۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اگر آپ ان مشرکین سے پوچھیں کہ آسمان اور زمین کس نے بنائے ہیں ؟تو وہ ضرور اقرار کریں گے کہ آسمان اورزمین کو اللہ تعالیٰ نے بنایا اور وہ یہ بھی اقرار کریں گے کہ اللہ تعالیٰ عزت و علم والا ہے، اس اقرار کے باوجود ان کابتوں کی عبادت کرنا اور دوبارہ زندہ کئے جانے کا انکار کرنا کیسی انتہادرجہ کی جہالت ہے۔( خازن، الزخرف، تحت الآیۃ: ۹، ۴/۱۰۲)
الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۚ(۱۰)
ترجمۂکنزالایمان: جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا کیا اورتمہارے لیے اس میں راستے کئے کہ تم راہ پاؤ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا کیا اورتمہارے لیے اس میں راستے بنائے تاکہ تم راہ پاؤ۔
{اَلَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا: جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا کیا۔} اس آیت سے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے اظہار کے لئے اپنی مصنوعات کا ذکر فرمایا اور اپنے اوصاف و شان کا اظہار کیا ہے،چنانچہ ارشاد فرمایاکہ عزت و علم والا اللہ عَزَّوَجَلَّ وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا (جو کہ پھیلاوے اور ٹھہرے ہوئے ہونے میں بستر کی طرح ہے) اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو اسے مُتَحَرِّ ک بنا دیتا لیکن اس صورت میں کوئی چیز اس پر نہ ٹھہرتی اور زمین سے نفع اٹھانا