Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
102 - 764
صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کفار کی طرف سے پہنچنے والی اَذِیَّتوں  پر تسلی دی اور کفارِ مکہ کو ڈرایا کہ اگر یہ اپنی حرکتوں  سے باز نہ آئے تو ان کا انجام بھی سابقہ لوگوں  جیسا ہو سکتا ہے۔
(3)…اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلالت کرنے والی چند چیزیں  بیان کی گئیں  اور یہ بتایاگیا کہ کفار کی جہالت اور بیوقوفی کا یہ حال ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو اپنا خالق ماننے کے باوجود بتوں  کی پوجا کرتے ہیں ۔
(4)…کفارِ مکہ فرشتوں  کی عبادت کرتے اور انہیں  اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں  قرار دیتے تھے ا س پر ان کاشدید رد کیا گیا اور بیٹیوں  کے معاملے میں  ان کا اپنا حال بیان کیاگیا کہ جب ان میں  سے کسی کو بیٹی پیدا ہونے کے بارے میں  بتایاجائے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا اور وہ غم و غصے میں  بھرا رہتا ہے اور یہ بتایا گیا کہ فرشتوں  کی عبادت کرنے کے معاملے میں  ان کے پاس کوئی عقلی اور نقلی دلیل نہیں  ہے بلکہ یہ صرف اپنے باپ دادا کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ایساکر رہے ہیں  اور یہی حال ان سے پہلے کفار کا تھا کہ ان کے پاس بھی اپنے باپ دادا کی اندھی پیروی کے علاوہ شرک کی کوئی اوردلیل نہ تھی۔
(5)…حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اوران کی قوم،حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوم اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوم کے واقعات بیان فرمائے تاکہ کفار ِمکہ ان قوموں  کے اعمال کے نتائج سن کر عبرت اور نصیحت حاصل کریں  اور اس کے ساتھ ساتھ حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر وحی نازل ہونے کے بارے میں  کفار کے اعتراضات کا جواب دیا گیا۔
(6)…یہ بیان کیاگیا کہ دنیا کے سازو سامان اور زیب و زینت کی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  کوئی قدر نہیں  اور آخرت کی نعمتیں  پرہیز گاروں  کے لئے ہیں ۔
(7)…یہ بتایاگیا کہ جو قرآن کی ہدایتوں  سے منہ پھیرے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب اوراس کی پکڑ سے بے خوف ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اس پر ایک شیطان مقرر کر دیتا ہے جو دنیا میں  اس کے ساتھ رہتا ہے، اسے نیک کاموں  سے روکتا اور حرام کاموں  میں  مبتلا کرتا ہے اور وہ شخص گمراہ ہونے کے باوجود یہ سمجھتا رہتاہے کہ وہ ہدایت یافتہ ہے،نیز آخرت میں  بھی وہ شیطان ا س کا ساتھی ہو گا اور اس وقت وہ شخص شیطان کے ساتھ پر حسرت وا فسوس کا اظہار کرے گا لیکن ا س کا اسے کوئی فائدہ نہ ہو گا۔
(8)…کفارِ مکہ کے ایمان قبول نہ کرنے پر حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دی گئی اور بتایا گیا کہ یہ لوگ دل