سورۂ زُخْرُف
سورۂ زُخْرُف کا تعارف
مقامِ نزول:
سورۂ زُخْرُفْ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔( خازن، تفسیر سورۃ الزخرف، ۴/۱۰۱)
آیات،کلمات اورحروف کی تعداد:
اس سورت میں 7رکوع،89آیتیں اور3400 حروف ہیں ۔( خازن، تفسیر سورۃ الزخرف، ۴/۱۰۱)
’’زُخْرُفْ ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
زُخْرُف کا معنی ہے’’ سونا‘‘ نیز کسی چیز کے حسن کا کمال بھی زُخْرُف کہلاتا ہے، اور اس سورت کی آیت نمبر 35 میں کلمہ ’’وَ زُخْرُفًا‘‘ مذکور ہے ،اس کی مناسبت سے اس سورت کا نام ’’سورۂ زُخْرُفْ‘‘ رکھا گیا ہے۔
سورۂ زُخْرُفْکے مضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ ا س میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت پر ایمان لانے،اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنے ، حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اللہ تعالیٰ کا رسول ہونے،قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہونے، قیامت کے دن مُردوں کو دوبارہ زندہ کئے جانے اور اعمال کی جزاء و سزا ملنے پر کلام کیا گیا ہے، اور اس سورت میں یہ چیزیں بیان کی گئی ہیں ،
(1)…اس سورت کی ابتداء میں بتایاگیا کہ قرآنِ مجیدعربی زبان میں اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اسے عربی زبان میں نازل کرنے کی حکمت یہ ہے کہ اَوّلین مُخاطَب یعنی عرب والے اس کے معانی اور اَحکام کو سمجھ سکیں ۔
(2)… انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا مذاق اڑانے والی سابقہ امتوں کا انجام بیان کر کے اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب