الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ اللہ تعالٰی سے براگمان نہ رکھو، وہ لوگ ہر گز تمہیں نہ پا سکیں گے بیشک میرے ساتھ میرا رب عَزَّوَجَلَّ ہے اور وہ ابھی مجھے بچنے کاراستہ دکھا دے گا۔(1)
فَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَؕ-فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِۚ(۶۳) وَ اَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِیْنَۚ(۶۴)
ترجمۂکنزالایمان: تو ہم نے موسیٰ کو وحی فرمائی کہ دریا پر اپنا عصا مار تو جبھی دریا پھٹ گیا تو ہر حصہ ہوگیا جیسے بڑا پہاڑ۔ اور وہاں قریب لائے ہم دوسروں کو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر اپنا عصا مارو تو اچانک وہ دریا پھٹ گیاتو ہر راستہ بڑے پہاڑ جیسا ہوگیا۔ اور وہاں ہم دوسروں کوقریب لے آئے۔
{فَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى: تو ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی۔} اللہ تعالٰی نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی بھیجی کہ اپنا عصا دریا پر مارو، چنانچہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دریا پر عصا مارا تو اچانک وہ دریابارہ راستوں میں تقسیم ہوکر پھٹ گیا، ہر راستہ بڑے پہاڑ جیسا ہوگیا اور ان کے درمیان خشک راستے بن گئے جن پر چل کر بنی اسرائیل دریا سے پار ہو گئے۔(2)
{وَ اَزْلَفْنَا: اور ہم قریب لے آئے۔} یعنی ہم فرعون اور ا س کے لشکر کو بنی اسرائیل کے قریب لے آئے، یہاں تک کہ وہ بنی اسرائیل کے راستوں میں چل پڑے جواُن کے لئے دریا میں اللہ تعالٰی کی قدرت سے پیدا ہوئے تھے۔(3)
وَ اَنْجَیْنَا مُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۚ(۶۵) ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَؕ(۶۶)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…روح ا لبیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۶۰-۶۲، ۶/۲۷۸، مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۶۰-۶۲، ص۸۲۱، ملتقطاً۔
2…جلالین، الشعراء، تحت الآیۃ: ۶۳، ص۳۱۲۔
3…روح ا لبیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۶۴، ۶/۲۷۹-۲۸۰۔