ترجمۂکنزالایمان: اور ہم نے بچالیا موسیٰ اور اس کے سب ساتھ والوں کو۔پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم نے موسیٰ اور اس کے سب ساتھ والوں کوبچالیا۔ پھر دوسروں کو غرق کردیا۔
{وَ اَنْجَیْنَا: اور ہم نے بچالیا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کے سب ساتھ والوں کو دریا سے سلامت نکال کر بچا لیا اور فرعون اور اس کی قوم کو اس طرح غرق کر دیا کہ جب بنی اسرائیل سارے کے سارے دریا سے باہر ہوگئے اور تمام فرعونی دریا کے اندر آ گئے تو اللہ تعالٰی کے حکم سے دریا مل گیا اور پہلے کی طرح ہوگیا،یوں فرعون اپنی قوم کے ساتھ ڈوب گیا۔(1)
اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةًؕ-وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۶۷)
ترجمۂکنزالایمان: بیشک اس میں ضرور نشانی ہے اور ان میں اکثر مسلمان نہ تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک اس میں ضرور نشانی ہے اور ان (فرعونیوں ) میں اکثر مسلمان نہ تھے۔
{اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً: بیشک اس میں ضرور نشانی ہے۔} یعنی دریا میں جو کچھ واقع ہوا اس میں اللہ تعالٰی کی قدرت پر ضرور نشانی ہے اور یہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا معجزہ ہے۔(2)
{وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ: اور ان میں اکثر مسلمان نہ تھے۔} یعنی فرعونیوں میں سے اکثر مسلمان نہ تھے۔ مصر والوں میں سے صرف تین حضرات ایمان لائے۔ (1)فرعون کی بیوی حضرت آسیہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُا۔ (2)حِزْقِیْل۔ انہیں آلِ فرعون کا مؤمن کہتے ہیں ،یہ اپنا ایمان چھپائے رہتے تھے اور فرعون کے چچا زاد تھے۔ (3)مریم۔ یہ ایک بوڑھی خاتون تھیں ، انہوں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے جنت کا وعدہ لے کر دریائے نیل میں حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قبر ِانور کا محلِ وقوع بتایا تھا۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللہ تعالٰی کے حکم سے حضرت یوسف عَلَیْہِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…جلالین، الشعراء، تحت الآیۃ: ۶۵-۶۶، ص۳۱۲۔
2…خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۶۷، ۳/۳۸۸۔