{فَاَخْرَجْنٰهُمْ: تو ہم نے انہیں باہر نکالا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے فرعون اور اس کی قوم کوباغوں اور چشموں کی سرزمین مصرسے اورسونے چاندی کے خزانوں اور عمدہ مکانوں سے باہر نکالا تاکہ وہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور بنی اسرائیل تک پہنچیں اور اللہ تعالٰی نے فرعونیوں کو ایسے ہی ان کے وطن سے نکالا جیساکہ بیان ہوا، پھرفرعون اور اس کی قوم کو غرق کر دئیے جانے کے بعد اللہ تعالٰی نے بنی اسرائیل کو فرعونیوں کی سرزمین اور ان کے خزانوں اور مکانوں کاوارث بنادیا۔(1)
فَاَتْبَعُوْهُمْ مُّشْرِقِیْنَ(۶۰)فَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰۤى اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَۚ(۶۱) قَالَ كَلَّاۚ-اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ(۶۲)
ترجمۂکنزالایمان: تو فرعونیوں نے ان کا تعاقب کیا دن نکلے۔ پھر جب آمنا سامنا ہوا دونوں گروہوں کا موسیٰ والوں نے کہا ہم کو انہوں نے آلیا۔موسیٰ نے فرمایا یوں نہیں بیشک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ مجھے اب راہ دیتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو دن نکلنے کے وقت فرعونیوں نے ان کا تعاقب کیا۔ پھر جب دونوں گروہوں کا آمنا سامنا ہوا تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا: بیشک ہمیں پالیا گیا۔ موسیٰ نے فرمایا:ہرگز نہیں ، بیشک میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ابھی مجھے راستہ دکھا دے گا۔
{فَاَتْبَعُوْهُمْ: تو فرعونیوں نے ان کا تعاقب کیا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ جب سورج طلوع ہو اتو فرعونیوں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور بنی اسرائیل کا تعاقب کیا،پھر جب دونوں گروہوں کا آمنا سامنا ہوا اور ان میں سے ہر ایک نے دوسرے کو دیکھا تو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھیوں نے کہا: بیشک اب وہ ہم پر قابو پالیں گے، نہ ہم ان کا مقابلہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ ہمارے پاس بھاگنے کی کوئی جگہ ہے کیونکہ آگے دریا ہے۔حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو چونکہ اللہ تعالٰی کے وعدے پر پورا بھروسہ تھا ا س لئے آپ عَلَیْہِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…جلالین،الشعراء،تحت الآیۃ:۵۷-۵۹،ص۳۱۱-۳۱۲، روح البیان،الشعراء،تحت الآیۃ:۵۷-۵۹،۶/۲۷۷-۲۷۸،ملتقطاً۔