ترجمۂکنزالایمان: اب فرعون نے شہروں میں جمع کرنے والے بھیجے۔ کہ یہ لوگ ایک تھوڑی جماعت ہیں ۔ اور بیشک وہ ہم سب کا دل جلاتے ہیں ۔اور بیشک ہم سب چوکنے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو فرعون نے شہروں میں جمع کرنے والے بھیجے۔ (اور کہا:) یہ لوگ ایک تھوڑی سی جماعت ہیں ۔ اور بیشک یہ ہمیں غصہ دلانے والے ہیں ۔ اور بیشک ہم سب ہوشیار ہیں ۔
{فَاَرْسَلَ: تو اس نے بھیجے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی تین آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالٰی کے حکم کے مطابق حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر راتوں رات مصر سے نکل گئے اور جب فرعون نے ان کے مصر سے نکلنے کی خبر سنی تو اس نے لشکر جمع کرنے کے لئے شہروں میں قاصدبھیجے، جب لشکر جمع ہوگئے تو ان کی کثرت کے مقابلے میں بنی اسرائیل کی تعداد تھوڑی معلوم ہونے لگی، چنانچہ فرعون نے بنی اسرائیل کے بارے میں کہا: یہ لوگ ایک تھوڑی سی جماعت ہیں اور بیشک یہ ہماری مخالفت کرکے اور ہماری اجازت کے بغیر ہماری سرزمین سے نکل کر ہم سب کا دل جلاتے اور ہمیں غصہ دلانے والے ہیں اور بیشک ہم سب ہتھیاروں سے لیس اور ہوشیار ہیں ۔(1)
فَاَخْرَجْنٰهُمْ مِّنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ(۵۷) وَّ كُنُوْزٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ(۵۸) كَذٰلِكَؕ-وَ اَوْرَثْنٰهَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ(۵۹)
ترجمۂکنزالایمان: تو ہم نے انہیں باہر نکالا باغوں اور چشموں ۔ اور خزانوں اور عمدہ مکانوں سے۔ ہم نے ایسا ہی کیا اور ان کا وارث کردیا بنی اسرائیل کو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو ہم نے انہیں (فرعون اور اس کی قوم کو) باغوں اور چشموں (کی زمین) سے باہر نکالا۔ اور خزانوں اور عمدہ مکانوں سے۔ ہم نے ایسے ہی کیا اور بنی اسرائیل کو ان کا وارث بنادیا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…جلالین، الشعراء، تحت الآیۃ: ۵۳-۵۶، ص۳۱۱، مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۵۳-۵۶، ص۸۲۰، خازن، الشعراء، تحت الآیۃ:۵۳-۵۶، ۳/۳۸۷، ملتقطاً۔