Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
96 - 608
 رب عَزَّوَجَلَّ اس بنا پر ہماری خطائیں  بخش دے کہ ہم فرعون کی رعایہ میں  سے یا اس مجمع کے حاضرین میں  سے سب سے پہلے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لانے والے ہیں ۔(1)
	 اس واقعہ کے بعد حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کئی سال تک وہاں  ٹھہرے رہے اور ان لوگوں  کو حق کی دعوت دیتے رہے، لیکن اُن کی سرکشی بڑھتی گئی۔ 
وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْۤ اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَ(۵۲)
ترجمۂکنزالایمان: اور ہم نے موسیٰ کو وحی بھیجی کہ راتوں  را ت میرے بندو ں  کو لے نکل بیشک تمھارا پیچھا ہو نا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ راتوں  را ت میرے بندو ں  کو لے چلو، بیشک تمہارا پیچھا کیا جائے گا۔
{وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى: اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی۔} جب ایک عرصے تک حق کی دعوت دینے اور پے درپے نشانیاں  دکھانے کے باوجود فرعونی ایمان نہ لائے اور اپنی سرکشی میں  بڑھتے ہی گئے تو اللہ تعالٰی نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی بھیجی کہ راتوں  را ت بنی اسرائیل کو مصر سے لے چلو، بیشک فرعون اور اس کے لشکر تمہارا پیچھا کریں  گے اور وہ لوگ تمہارے پیچھے پیچھے دریا میں  داخل ہوجائیں  گے، اس کے بعدہم تمہیں  نجات دیں  گے اور فرعون کو ا س کے لشکر کے ساتھ دریا میں  غرق کردیں  گے۔(2)
فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِی الْمَدَآىٕنِ حٰشِرِیْنَۚ(۵۳) اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِیْلُوْنَۙ(۵۴) وَ اِنَّهُمْ لَنَا لَغَآىٕظُوْنَۙ(۵۵) وَ اِنَّا لَجَمِیْعٌ حٰذِرُوْنَؕ(۵۶)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۵۰-۵۱، ۳/۳۸۶-۳۸۷، مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۵۰-۵۱، ص۸۲۰، ملتقطاً۔
2…روح ا لبیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۵۲، ۶/۲۷۶ملخصًا۔