Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
95 - 608
{قَالَ: فرعون نے کہا۔} جب جادو گر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لے آئے تو فرعون نے ان سے کہا: ’’کیا تم میری اجازت کے بغیر ہی اس پر ایمان لے آئے۔ بیشک موسیٰ تمہارا بڑا استادہے، جس نے تمہیں  جادو سکھایا، اسی لئے وہ تم پر غالب آ گئے اور تم نے آپس میں  مل کر میرے خلاف سازش کی اور میرے ملک میں  فساد پھیلانے کی کوشش کی، اب تم جان جاؤ گے کہ تمہارے ا س عمل کی وجہ سے تمہارے ساتھ کیا سلوک کیاجاتا ہے۔ مجھے قسم ہے! عنقریب میں  ضرور تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں  کاٹ دوں  گا اور تم سب کو پھانسی دے دوں  گا۔ اس گفتگوسے فرعون کا ایک مقصد یہ تھا کہ لوگ شبہ میں  پڑ جائیں  اور وہ یہ نہ سمجھیں  کہ جادوگروں  پر حق ظاہر ہو گیا اسی لئے وہ ایمان لے آئے اور دوسرا مقصد یہ تھا کہ عام مخلوق ڈر جائے اور لوگ جادو گروں  کو دیکھ کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان نہ لے آئیں ۔(1)
قَالُوْا لَا ضَیْرَ٘-اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ(۵۰) اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَاۤ اَنْ كُنَّاۤ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَؕ۠(۵۱)
ترجمۂکنزالایمان: وہ بولے کچھ نقصان نہیں  ہم اپنے رب کی طرف پلٹنے والے ہیں ۔ ہمیں  طمع ہے کہ ہمارا رب ہماری خطائیں  بخش دے اس پر کہ ہم سب سے پہلے ایمان لائے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جادوگروں  نے کہا: کچھ نقصان نہیں ،بیشک ہم اپنے رب کی طرف پلٹنے والے ہیں ۔ہم اس بات کی لالچ کرتے ہیں  کہ ہمارا رب ہماری خطائیں  بخش دے اس بنا پر کہ ہم سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں ۔
{قَالُوْا: وہ بولے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ فرعون کی دھمکی سن کر ان جادو گروں  نے کہا’’اللہ تعالٰی کی خاطر جان دینے میں  کچھ نقصان نہیں  خواہ دنیا میں  کچھ بھی پیش آئے کیونکہ ہم اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف ایمان کے ساتھ پلٹنے والے ہیں  اور ہمیں  اللہ تعالٰی سے رحمت کی امید ہے اور ہمیں  اس بات کا لالچ ہے کہ ہمارا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۴۹، ۶/۲۷۴-۲۷۵،  مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۴۹، ص۸۱۹-۸۲۰، ملتقطاً۔