Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
92 - 608
الْغٰلِبِیْنَ(۴۱) قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ(۴۲)
ترجمۂکنزالایمان: پھر جب جادوگر آئے فرعون سے بولے کیا ہمیں  کچھ مزدوری ملے گی اگر ہم غالب آئے۔ بولا ہاں  اور اس وقت تم میرے مقرب ہوجاؤ گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر جب جادوگر آئے توانہوں  نے فرعون سے کہا: کیا ہمارے لئے کوئی معاوضہ بھی ہے اگر ہم غالب ہوگئے۔ (فرعون نے) کہا: ہاں  اور اس وقت تم میرے نہایت قریبی لوگوں میں  سے ہوجاؤ گے۔
{فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ: پھر جب جادوگر آئے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب جادوگر فرعون کے پاس آئے توانہوں  نے فرعون سے کہا:اگر ہم حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر غالب ہوگئے توکیا ہمارے لئے کوئی معاوضہ بھی ہے ؟ فرعون نے کہا: ہاں  ہے اورکوئی معمولی معاوضہ نہیں  بلکہ اس وقت تم میرے نہایت قریبی لوگوں  میں  سے ہوجاؤ گے، تمہیں  درباری بنالیا جائے گا، تمہیں  خاص اعزاز دیئے جائیں  گے، سب سے پہلے داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی اور سب سے بعد تک دربار میں  رہو گے۔(1)
قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ(۴۳)فَاَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَ عِصِیَّهُمْ وَ قَالُوْا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ(۴۴)
ترجمۂکنزالایمان: موسیٰ نے ان سے فرمایا ڈالو جو تمہیں  ڈالنا ہے۔تو انھوں  نے اپنی رسیاں  اور لاٹھیاں  ڈالیں  اور بولے فرعون کی عزت کی قسم بیشک ہماری ہی جیت ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: موسیٰ نے ان سے فرمایا:تم ڈالو جو تم ڈالنے والے ہو۔تو انہوں  نے اپنی رسیاں  اور لاٹھیاں  (زمین
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۴۱-۴۲، ص۸۱۹، ملخصاً۔