جادوگروں کوجمع کرنے والے بھیجو اور وہ تمہارے پاس ہر بڑے علم والے جادوگرکو لے آئیں جوجادو کے علم میں (بقول اُن کے) حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے بڑھ کر ہواور وہ لوگ اپنے جادو سے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے معجزات کا مقابلہ کریں تاکہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لئے کوئی حجت باقی نہ رہے اور فرعونیوں کو یہ کہنے کا موقع مل جائے کہ یہ کام جادو سے ہوجاتے ہیں ، لہٰذا یہ نبوت کی دلیل نہیں ہیں ۔(1)
فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۙ(۳۸) وَّ قِیْلَ لِلنَّاسِ هَلْ اَنْتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَۙ(۳۹) لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنْ كَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَ(۴۰)
ترجمۂکنزالایمان: تو جمع کیے گئے جادوگر ایک مقرر دن کے وعدہ پر۔اور لوگوں سے کہا گیا کیا تم جمع ہوگئے۔ شاید ہم ان جادوگروں ہی کی پیروی کریں اگر یہ غالب آئیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو جادوگروں کو ایک مقرر دن کے وعدے پر جمع کرلیا گیا۔ اور لوگوں سے کہا گیا :کیا تم جمع ہوگے؟ شاید ہم ان جادوگروں ہی کی پیروی کریں اگر یہ غالب ہوجائیں ۔
{فَجُمِعَ: توجمع کرلیا گیا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ جادو گروں کو فرعونیوں کی عید کے دن جمع کر لیا گیا اور اس مقابلے کے لئے چاشت کا وقت مقرر کیا گیا اورفرعون کی جانب سے لوگوں سے کہا گیا :کیا تم بھی جمع ہوگے تاکہ دیکھو کہ دونوں فریق کیا کرتے ہیں اور اُن میں سے کون غالب آتا ہے۔شاید ہم ان جادوگروں ہی کی پیروی کریں اگر یہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر غالب ہوجائیں ۔ اس سے ان کا مقصود جادو گروں کی پیروی کرنا نہ تھا بلکہ غرض یہ تھی کہ اس حیلے سے لوگوں کو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پیروی کرنے سے روکیں۔(2)
فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُوْا لِفِرْعَوْنَ اَىٕنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۳۶-۳۷، ۶/۲۷۱-۲۷۲، ملخصاً۔
2…مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۳۸-۴۰، ص۸۱۹، خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۳۸-۴۰، ۳/۳۸۶، ملتقطاً۔