پر) ڈال دیں اورکہنے لگے: فرعون کی عزت کی قسم! بیشک ہم ہی غالب ہوں گے۔
{قَالَ لَهُمْ: موسیٰ نے ان سے فرمایا۔} فرعون سے معاوضے کا وعدہ لینے کے بعد جادو گروں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے عرض کی: کیا آپ پہلے اپنا عصا ڈالیں گے یا ہمیں اجازت ہے کہ ہم اپنا جادو کا سامان ڈالیں ۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان جادوگروں سے فرمایا:تم اپنا وہ سامان زمین پرڈالو جو تم ڈالنے والے ہو تاکہ تم اس کا انجام دیکھ لو۔(1)
{فَاَلْقَوْا: تو انہوں نے ڈال دیں ۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے کہنے پر جادوگروں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈال دیں اورکہنے لگے: فرعون کی عزت کی قسم :بیشک ہم ہی حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر غالب ہوں گے۔ جادوگروں نے فرعون کی عزت کی قسم اس لئے کھائی کہ انہیں اپنے غلبہ کا اطمینان تھا کیونکہ جادوکے اعمال میں سے جو انتہا کے عمل تھے یہ اُن کو کام میں لائے تھے اور کامل یقین رکھتے تھے کہ اب کوئی جادو اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔(2)
فَاَلْقٰى مُوْسٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚۖ(۴۵) فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۙ(۴۶) قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ(۴۷) رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ(۴۸)
ترجمۂکنزالایمان: تو موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا جبھی وہ ان کی بناوٹوں کو نگلنے لگا۔اب سجدہ میں گرے جادوگر۔بولے ہم ایمان لائے اس پر جو سارے جہان کا رب ہے۔جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو موسیٰ نے اپنا عصا (زمین پر) ڈالا توجبھی وہ ان کی جعلسازیوں کو نگلنے لگا۔ توجادوگر سجدے میں گرا دیے گئے۔ انہوں نے کہا: ہم ایمان لائے اس پر جو سارے جہان کا رب ہے۔ جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…جلالین، الشعراء، تحت الآیۃ: ۴۳، ص۳۱۱، مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۴۳، ص۸۱۹، ملتقطاً۔
2…روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۴۴، ۶/۲۷۳، ملخصاً۔