ترجمۂکنزالایمان: بولا اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو خدا ٹھہرایا تو میں ضرور تمہیں قید کردوں گا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: (فرعون نے) کہا: (اے موسیٰ!) اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں ضرور تمہیں قید کردوں گا۔
{قَالَ: کہا۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا یہ جواب سن کر فرعون حیران رہ گیا اور ا س کے پاس اللہ تعالٰی کی قدرت کے آثار کا انکار کرنے کی کوئی راہ باقی نہ رہی اوراس سے کوئی جواب نہ بن پڑا تو اس نے کہا:اے موسیٰ! عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں ضرور تمہیں قید کردوں گا۔ فرعون کی قید قتل سے بدتر تھی، اس کا جیل خانہ تنگ و تاریک اور گہرا گڑھا تھا، اس میں اکیلا ڈال دیتا تھا، نہ وہاں کوئی آواز سنائی دیتی تھی اور نہ کچھ نظر آتا تھا۔(1)
قَالَ اَوَ لَوْ جِئْتُكَ بِشَیْءٍ مُّبِیْنٍۚ(۳۰) قَالَ فَاْتِ بِهٖۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ(۳۱)
ترجمۂکنزالایمان: فرمایا کیا اگرچہ میں تیرے پاس کوئی روشن چیز لاؤں ۔کہا تو لاؤ اگر سچے ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: موسیٰ نے فرمایا: کیا اگرچہ میں تیرے پاس کوئی روشن چیز لے آؤں ۔ (فرعون نے) کہا: (اے موسیٰ!) اگر تم سچوں میں سے ہو تو وہ نشانی لے آ ؤ۔
{قَالَ: فرمایا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرعون سے فرمایا: کیاتو مجھے قید کرے گا اگرچہ میں تیرے پاس کوئی حق اور باطل میں فرق واضح کرنے والا کوئی معجزہ لے کر آؤں اور یہ معجزہ اللہ تعالٰی کے موجود ہونے اور میری رسالت کی دلیل ہو۔ اس پر فرعون نے کہا: اے موسیٰ!اگر تم اپنے دعوے کی صداقت پر دلیل پیش کرنے میں سچوں میں سے ہو تو وہ نشانی لے آؤ۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۹، ص۸۱۸۔
2…مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۳۰-۳۱، ص۸۱۸، روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۳۰-۳۱، ۶/۲۷۰، ملتقطاً۔