ترجمۂکنزُالعِرفان: (فرعون نے) کہا: بیشک تمہارا یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے ضرور دیوانہ ہے۔
{قَالَ: کہا۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا جواب سن کرفرعون نے کہا: بیشک تمہارا یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے ضرور دیوانہ ہے کہ یہ سوال ہی نہیں سمجھ سکا تو ا س کاجواب کیا دے گا۔بعض مفسرین کے نزدیک فرعون نے یہ اس لئے کہا کہ وہ اپنے سوا کسی معبود کے وجود کا قائل نہ تھا اور جو اس کے معبود ہونے کا اعتقاد نہ رکھے اس کو وہ خارج از عقل کہتا تھا اور حقیقۃً اس طرح کی گفتگو آدمی کی زبان پر ا س وقت آتی ہے جب وہ عاجز ہو چکا ہو، لیکن حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ہدایت کے فریضہ کو علیٰ وجہِ الکمال ادا کیا اور اس کی اس تمام لایعنی گفتگو کے باوجود پھر مزید بیان کی طرف متوجہ ہوئے۔
قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ مَا بَیْنَهُمَاؕ-اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ(۲۸)
ترجمۂکنزالایمان: موسیٰ نے فرمایا رب پورب اور پچھم کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اگر تمہیں عقل ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: موسیٰ نے فرمایا: وہ مشرق اور مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب ہے اگر تمہیں عقل ہو۔
{قَالَ: فرمایا۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا:سارے جہان کا رب وہ ہے جو مشرق اور مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب ہے، اگر تمہیں عقل ہو تو جو بات میں نے بیان کی اس سے اللہ تعالٰی کے وجود پر اِستدلال کر سکتے ہو کیونکہ مشرق سے سورج کا طلوع کرنا اور مغرب میں غروب ہوجانا اور سال کی فصلوں میں ایک مُعَیَّن حساب پر چلنا اور ہواؤں اور بارشوں وغیرہ کے نظام یہ سب اس کے وجود و قدرت پر دلالت کرتے ہیں ۔(1)
قَالَ لَىٕنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ(۲۹)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ابو سعود، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۸، ۴/۱۶۰، مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۸، ص۸۱۷، ملتقطاً۔