فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ(۳۲) وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠(۳۳)
ترجمۂکنزالایمان: تو موسیٰ نے اپنا عصا ڈال دیا جبھی وہ صریح اژدہا ہوگیا۔اور اپنا ہاتھ نکالا تو جبھی وہ دیکھنے والوں کی نگاہ میں جگمگانے لگا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو موسیٰ نے اپنا عصا ڈال دیاتو اچانک وہ بالکل واضح ایک بہت بڑا سانپ ہوگیا۔اور اپنا ہاتھ نکالا تو اچانک وہ دیکھنے والوں کی نگاہ میں جگمگانے لگا۔
{فَاَلْقٰى عَصَاهُ: تو موسیٰ نے اپنا عصا ڈال دیا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ فرعون کے نشانی طلب کرنے پر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو اچانک وہ بالکل واضح ایک بہت بڑا سانپ بن گیا اور فرعون کی طرف متوجہ ہوکرکہنے لگا: اے موسیٰ! عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، مجھے جو چاہے حکم دیجئے۔ فرعون نے گھبرا کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کہا: اس کی قسم جس نے تمہیں رسول بنایا، اس کو پکڑلو۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اس کو اپنے دست ِمبارک میں لیا تو وہ پہلے کی طرح عصا بن گیا۔ فرعون کہنے لگا: اس کے سوا اور بھی کوئی معجزہ ہے؟ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا ’’ہاں !اورحضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر نکالا تو اچانک اس سے سورج کی سی شعاع ظاہر ہوئی جس سے دیکھنے والوں کی نگاہیں چکاچوند ہو گئیں ۔(1)
قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَهٗۤ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ(۳۴) یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهٖ ﳓ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ(۳۵)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۳۲-۳۳، ۳/۳۸۵، ملتقطاً۔