ترجمۂکنزُالعِرفان: (اللہ نے) فرما یا: ہرگز نہیں ، تم دو نوں ہمارے معجزات لے کر جا ؤ، ہم تمہارے ساتھ ہیں ، خوب سننے والے ہیں ۔
{قَالَ: فرمایا۔} اللہ تعالٰی نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے فرمایا: ’’وہ تمہیں ہرگز قتل نہیں کرسکیں گے کیونکہ میں انہیں آپ پر مُسَلَّط نہیں ہونے دوں گا بلکہ آپ کو ان پر غالب فرما دوں گا۔ اللہ تعالٰی نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کی درخواست منظور فرما کر حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بھی نبی بنادیا اور دونوں کو حکم دیا کہ’’تم دو نوں میرے دئیے ہوئے معجزات لے کر جا ؤ، ہم اپنی مدد و نصرت کے ذریعے تمہارے ساتھ ہیں اورجو تم کہو اور جو تمہیں جواب دیا جائے اسے خوب سننے والے ہیں ۔(1)
فَاْتِیَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ(۱۶) اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ(۱۷)
ترجمۂکنزالایمان: تو فرعون کے پاس جاؤ پھر اس سے کہو ہم دونو ں اس کے رسول ہیں جو رب ہے سارے جہا ں کا۔ کہ تو ہما رے ساتھ بنی اسرائیل کو چھوڑ دے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو فرعون کے پاس جاؤ پھر اس سے کہو : بیشک ہم دونو ں اس کے رسول ہیں جو تمام جہانوں کا مالک ہے۔ کہ تو ہما رے ساتھ بنی اسرائیل کوبھیج دے۔
{اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا: کہ تو ہما رے ساتھ بھیج دے۔} فرعون نے چار سو برس تک بنی اسرائیل کو غلام بنائے رکھا تھا اور اس وقت بنی اسرائیل کی تعداد چھ لاکھ تیس ہزار تھی اللہ تعالٰی کا یہ حکم پا کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مصر کی طرف روانہ ہوئے، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پشمینہ کا جبہ پہنے ہوئے تھے، دستِ مبارک میں عصا تھا اورعصا کے سرے میں زنبیل لٹکی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۵، ۳/۳۸۳، مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۵، ص۸۱۵-۸۱۶، روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۵، ۶/۲۶۶، ملتقطاً۔