Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
79 - 608
تنگ ہوگا اور میری زبان نہیں  چلتی تو تُو ہا رون کو بھی رسول بنا دے۔
{قَالَ: عرض کی۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالٰی کا حکم سن کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں  عرض کی ’’اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، میں  اس بات سے ڈرتا ہوں  کہ وہ مجھے جھٹلا ئیں  گے اوران کے جھٹلانے سے میرا سینہ تنگ ہوگا اور میں  نے بچپن میں  جو آگ کا انگارہ منہ میں  رکھا تھا ا س کی وجہ سے مجھے گفتگو کرنے میں  بھی کچھ تَکَلُّف ہوتا ہے تو تو میرے بھائی ہارون کو بھی رسول بنا دے تاکہ وہ رسالت کی تبلیغ میں  میری مدد کریں ۔جس وقت حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو شام میں  نبوت عطا کی گئی اس وقت حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام مصر میں  تھے۔(1)
وَ لَهُمْ عَلَیَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِۚ(۱۴)
ترجمۂکنزالایمان: اور ان کا مجھ پر ایک الزام ہے تو میں  ڈرتا ہو ں  کہیں  مجھے قتل کر دیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ان کا مجھ پر ایک الزام ہے تو میں  ڈرتا ہو ں  کہ کہیں  وہ مجھے قتل نہ کر دیں ۔
{وَ لَهُمْ عَلَیَّ ذَنْۢبٌ: اور ان کا مجھ پر ایک الزام ہے۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے مزید عرض کی کہ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، ان فرعونیوں کا مجھ پر قتل کاایک الزام ہے کہ میں  نے قبطی کو مارا تھاتو مجھے ا س بات کا ڈر ہے کہ اگر میں  اکیلا گیا تو کہیں  وہ مجھے رسالت کی ادائیگی سے پہلے ہی اس کے بدلے میں  قتل نہ کر دیں  جبکہ حضرت ہارون پر ان کا کوئی الزام نہیں ۔(2)
قَالَ كَلَّاۚ-فَاذْهَبَا بِاٰیٰتِنَاۤ اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ(۱۵)
ترجمۂکنزالایمان: فرما یا یوں  نہیں  تم دو نوں  میری آیتیں  لے کر جا ؤ ہم تمھا رے ساتھ سنتے ہیں ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۲-۱۳، ۳/۳۸۳، مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۲-۱۳، ص۸۱۵، ملتقطاً۔
2…مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۴، ص۸۱۵، روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۴، ۶/۲۶۶، ملتقطاً۔