Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
81 - 608
ہوئی تھی جس میں  سفرکا توشہ تھا۔ اس شان سے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مصر میں  پہنچ کر اپنے مکان میں  داخل ہوئے۔ حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وہیں  تھے، آپ نے انہیں  خبر دی کہ اللہ تعالٰی نے مجھے رسول بنا کر فرعون کی طرف بھیجا ہے اور آپ کو بھی رسول بنایا ہے کہ فرعون کو خدا کی طرف دعوت دو۔ یہ سن کر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی والدہ صا        حبہ گھبرائیں  اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کہنے لگیں  کہ فرعون تمہیں  قتل کرنے کے لئے تمہاری تلاش میں  ہے، جب تم اس کے پاس جاؤ گے تو وہ تمہیں  قتل کردے گا لیکن حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اُن کے یہ فرمانے سے نہ رکے اور حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ساتھ لے کر رات کے وقت فرعون کے دروازے پر پہنچے۔ دروازہ کھٹکھٹایا تو پوچھا گیا کہ آپ کون ہیں ؟ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا’’ میں  سب جہانوں  کے رب کا رسول موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام ہوں ۔ فرعون کو خبر دی گئی اور صبح کے وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بلائے گئے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ا س کے پاس پہنچ کر اللہ تعالٰی کی رسالت ادا کی اور فرعون کے پاس جو حکم پہنچانے پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مامور کئے گئے تھے وہ پہنچایا۔ فرعون نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو پہچان لیا کیونکہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اسی کے گھر میں  پلے بڑھے تھے۔(1)
قَالَ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِیْنَا وَلِیْدًا وَّ لَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِیْنَۙ(۱۸) وَ فَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَ اَنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ(۱۹)
ترجمۂکنزالایمان: بو لا کیا ہم نے تمہیں  اپنے یہاں  بچپن میں  نہ پالا اور تم نے ہما رے یہا ں  اپنی عمر کے کئی برس گزارے۔ اور تم نے کیا اپنا وہ کام جو تم نے کیا اور تم نا شکر تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: (فرعون نے) کہا: کیا ہم نے تمہیں  اپنے ہاں  بچپن میں  نہ پالا؟ اور تم نے ہما رے یہاں  اپنی عمر کے کئی سال گزارے۔ اور تم نے اپنا وہ کام کیا جو تم نے کیا اور تم شکریہ ادا کرنے والوں  میں  سے نہیں  ہو۔
{قَالَ: کہا۔} جب فرعون نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو پہچان لیا تو احسان جتاتے ہوئے آپ سے کہا: کیا ہم
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۷، ۳/۳۸۳-۳۸۴۔