Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
66 - 608
اللّٰهُ وَ اُولٰٓىٕكَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ‘‘(1)
کرتے ہیں ۔ یہ ہیں  جنہیں  اللہ نے ہدایت دی اور یہیعقلمند ہیں ۔ 
	اللہ تعالٰی عمل کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا(۷۴)
ترجمۂکنزالایمان: اور وہ جو عرض کرتے ہیں  اے ہمارے رب ہمیں  دے ہماری بیبیوں  اورہماری اولاد سے آنکھوں  کی ٹھنڈک اور ہمیں  پرہیزگاروں  کا پیشوا بنا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہ جو عرض کرتے ہیں : اے ہمارے رب! ہماری بیویوں  اور ہماری اولاد سے ہمیں آنکھوں  کی ٹھنڈک عطا فرمااور ہمیں  پرہیزگاروں  کا پیشوا بنا۔
{وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ: اور وہ جو عرض کرتے ہیں ۔} یعنی کامل ایمان والے اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں  یوں  عرض کرتے ہیں : اے ہمارے رب!ہماری بیویوں  اور ہماری اولاد سے ہمیں  آنکھوں  کی ٹھنڈک عطا فرما۔اس سے مراد یہ ہے کہ ہمیں  بیویاں  اور اولاد نیک، صالح، متقی عطا فرما تاکہ ان کے اچھے عمل اور ان کی اللہ تعالٰی اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت دیکھ کر ہماری آنکھیں  ٹھنڈی اور دل خوش ہوں ۔(2)
 مومن کی آنکھوں  کی ٹھنڈک:
	اس سے معلوم ہوا کہ نیک اور پرہیز گار بیوی اوراولاد مومن کی آنکھوں  کی ٹھنڈک اور اس کے دل کی خوشی کا باعث ہے۔نیک بیوی کے بارے میں  حضرت عبداللہ بن عمرو رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزمر:۱۷،۱۸۔
2…مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۷۴، ص۸۱۲۔