عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’دنیا مَتاع (یعنی فائدہ اٹھانے کی چیز) ہے اور دنیا کی بہترمتاع نیک عورت ہے۔(1)
اور حضرت ابو امامہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالٰی سے ڈرنے کے بعد مومن کے لیے نیک بیو ی سے بہتر کوئی چیز نہیں ۔ اگر اسے حکم دیتا ہے تو وہ اطاعت کرتی ہے اور اگر اسے دیکھے تو خوش کر دے اور اس پر قسم کھا بیٹھے تو قسم سچی کر دے اور کہیں چلا جائے تو اپنے نفس اور شوہر کے مال میں بھلائی کرے (یعنی اس کی عزت میں خیانت نہ کرے اور اس کا مال ضائع نہ کرے۔)(2)
اور نیک اولاد کے بارے میں حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جب انسان مر جاتا ہے تو تین اعمال کے علاوہ اس کے عمل مُنقَطع ہو جاتے ہیں ۔(1)صدقہ جاریہ۔(2)وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا ہو۔(3)نیک بچہ جو اس کے لئے دعا کرے۔(3)
{وَ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا: اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا۔} یعنی ہمیں ایسا پرہیزگار،عبادت گزار اور خدا پرست بنا کہ ہم پرہیزگاروں کی پیشوائی کے قابل ہوں اور وہ دینی اُمور میں ہماری اِقتدا کریں ۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس آیت میں دلیل ہے کہ آدمی کو دینی پیشوائی اور سرداری کی رغبت رکھنی اور طلب کرنی چاہئے۔(4) لیکن یہ اس صورت میں ہے کہ جب مقصد اچھا ہو نہ یہ کہ حب ِ دنیا اور حب ِ جاہ کی وجہ سے ہو۔
اُولٰٓىٕكَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوْا وَ یُلَقَّوْنَ فِیْهَا تَحِیَّةً وَّ سَلٰمًاۙ(۷۵) خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا(۷۶)
ترجمۂکنزالایمان: ان کو جنت کا سب سے اونچا بالا خانہ انعام ملے گا بدلہ ان کے صبر کا اور وہاں مجرے اور سلام کے ساتھ ان کی پیشوائی ہوگی۔ ہمیشہ اس میں رہیں گے کیا ہی اچھی ٹھہرنے اور بسنے کی جگہ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسلم، کتاب الرضاع، باب خیر متاع الدنیا المرأۃ الصالحۃ، ص۷۷۴، الحدیث: ۵۹(۱۴۶۷)۔
2…ابن ماجہ، کتاب النکاح، باب افضل النساء، ۲/۴۱۴، الحدیث: ۱۸۵۷۔
3…مسلم، کتاب الوصیۃ، باب ما یلحق الانسان من الثواب بعد وفاتہ، ص۸۸۶، الحدیث: ۱۴(۱۶۳۱)۔
4…خازن، الفرقان، تحت الآیۃ: ۷۴، ۳/۳۸۱۔