Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
65 - 608
وَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْهَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا(۷۳)
ترجمۂکنزالایمان: اور وہ کہ جب کہ انہیں  ان کے رب کی آیتیں  یاد د لائی جائیں  تو ان پر بہرے اندھے ہوکر نہیں  گرتے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہ لوگ کہ جب انہیں  ان کے رب کی آیتوں  کے ساتھ نصیحت کی جاتی ہے تو ان پر بہرے اور اندھے ہوکر نہیں  گرتے۔
{وَ الَّذِیْنَ: اور وہ لوگ۔} یعنی جب کامل ایمان والوں  کو ان کے رب عَزَّوَجَلَّ کی آیتوں  کے ساتھ نصیحت کی جاتی ہے تو وہ ان پر غفلت کے ساتھ بہرے اور اندھے ہوکر نہیں  گرتے کہ نہ سوچیں  نہ سمجھیں  بلکہ ہوش وحواس قائم رکھتے ہوئے سنتے ہیں  اورچشمِ بصیرت کے ساتھ دیکھتے ہیں  اور اس نصیحت سے ہدایت حاصل کرتے ہیں ،نفع اٹھاتے ہیں  اور ان آیتوں  میں  دئیے گئے احکام پر عمل کرتے ہیں ۔(1)
قرآن مجید کی آیات کے ذریعے کی جانے والی نصیحت کیسے سننی چاہئے؟
	اس آیت سے معلوم ہوا کہ جب قرآن مجید کی آیات کے ذریعے اللہ تعالٰی کی نعمتیں  یاد دلائی جائیں ، اللہ تعالٰی کی طاعت و فرمانبرداری کرنے اوراس کی رضا حاصل کرنے کی ترغیب دی جائے اور اس کی نافرمانی کرنے پر اس کے غضب وعذاب سے ڈرایا جائے، یونہی جو کام کرنے کا اللہ تعالٰی نے حکم دیا ہے انہیں  کرنے اور جن کاموں  سے بچنے کا فرمایا ہے ان سے رک جانے پر ابھارا جائے تو ہر مسلمان کو چاہئے کہ ان چیزوں  کو بے توجہی کے ساتھ نہ سنے بلکہ کامل توجہ کے ساتھ اور ہوش وحواس قائم رکھتے ہوئے سنے اور ان آیات کے ذریعے جو نصیحت کی گئی اس پر عمل کرے۔ ایسے لوگوں  کے بارے میں  ایک اور مقام پر اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے:
’’فَبَشِّرْ عِبَادِۙ(۱۷) اَلَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗؕ-اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ هَدٰىهُمُ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو میرے ان بندوں  کو خوشخبری سنادو۔ جو کان لگا کر بات سنتے ہیں  پھر اس کی بہتربات کی پیروی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…روح البیان، الفرقان، تحت الآیۃ: ۷۳، ۶/۲۵۲، خازن، الفرقان، تحت الآیۃ: ۷۳، ۳/۳۸۰، ملتقطاً۔