Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
57 - 608
صحابہ ٔ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو دیکھا، وہ اللہ تعالٰی کی حلال کردہ اَشیاء سے اس قدر اِجتناب کرتے تھے جتنا تم حرام اشیاء سے پرہیز نہیں  کرتے۔دوسری روایت میں  اس طرح ہے کہ جس قدر تم فراخی کی حالت پر خوش ہوتے ہو ا س سے زیادہ وہ آزمائشوں  پر خوش ہو اکرتے تھے،اگر تم انہیں  دیکھ لیتے تو کہتے یہ مجنون ہیں ،اور اگر وہ تمہارے بہترین لوگوں  کو دیکھتے تو کہتے: ان لوگوں  کا کوئی اخلاق نہیں ،اور اگر وہ تم میں  سے برے لوگوں  کو دیکھتے تو کہتے:ان کا قیامت کے دن پر ایمان نہیں ۔ ان میں  سے ایک کے سامنے حلال مال پیش کیا جاتا تو وہ نہ لیتا اور کہتا:مجھے اپنے دل کے خراب ہونے کا ڈر ہے۔(1)
	یہاں  ان کی زُہد و تقویٰ سے بھر پور زندگی کے4 واقعات ملاحظہ ہوں ،
(1)…حضرت حسن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :اہلِ بصرہ کا ایک وفد حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی معیت میں  حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی بارگاہ میں  حاضر ہوا اور (کچھ دنوں  میں ) انہوں  نے دیکھا کہ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ روزانہ ایک چھوٹی روٹی تناول فرماتے ہیں  اور یہ روٹی کبھی گھی کے ساتھ، کبھی زیتون کے ساتھ اور کبھی دودھ کے ساتھ کھاتے ہیں  اورآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کو کبھی خشک گوشت کے ٹکڑے ملتے جنہیں  کوٹ کر پانی سے تر کیا ہوا ہوتا اور کبھی تھوڑ اسا تازہ گوشت ملتا۔ایک دن آپ نے اہلِ بصرہ سے فرمایا: ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!میں  تم سے اچھا کھانا کھا سکتا ہوں ، آسائش والی زندگی گزار سکتا ہوں  اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!میں  سینے کے گوشت،گھی،آگ پر بھنے ہوئے گوشت، چٹنی اور چپاتیوں  سے ناواقف نہیں  ہوں  (لیکن میں  انہیں  اللہ تعالٰی کے خوف کی وجہ سے استعمال نہیں  کرتا) کیونکہ ایسی چیزوں  کو استعمال کرنے پر اللہ تعالٰی نے ایک قوم کو عار دلائی ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا:
’’اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَاۚ‘‘(2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم اپنے حصے کی پاک چیزیں  اپنی دنیا ہی کی زندگی میں  فنا کرچکے اور ان سے فائدہ اٹھاچکے۔
(اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں  قیامت کے دن مجھ سے بھی یہ نہ فرما دیاجائے۔)(3)
(2)…حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں  :قحط سالی کے دنوں  میں  امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے خود کو گھی کھانے سے روک رکھا تھا اور آپ صرف زیتون پر گزارا کیا کرتے تھے۔ایک دن زیتون کھانے کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…احیاء علوم الدین، کتاب الفقر والزہد، بیان تفصیل الزہد فیما ہو من ضروریات الحیاۃ، ۴/۲۹۷۔
2…الاحقاف:۲۰۔
3…الزہد لابن مبارک، باب ما جاء فی الفقر، ص۲۰۴، روایت نمبر: ۵۷۹، الجزء الاوّل۔