Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
56 - 608
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہ لوگ کہ جب خرچ کرتے ہیں  تونہ حد سے بڑھتے ہیں  اور نہ تنگی کرتے ہیں  اور ان دونوں  کے درمیان اعتدال سے رہتے ہیں ۔
{وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا: اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں ۔} یہاں  کامل ایمان والوں  کے خرچ کرنے کا حال ذکرفرمایا جارہا ہے کہ وہ اسراف اور تنگی دونوں  طرح کے مذموم طریقوں  سے بچتے ہیں  اور ان دونوں  کے درمیان اعتدال سے رہتے ہیں ۔ 
اِسراف اور تنگی کرنے سے کیا مراد ہے؟
	اسراف مَعصِیَت میں  خرچ کرنے کو کہتے ہیں ۔ ایک بزرگ رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے کہا کہ اسراف میں  کوئی بھلائی نہیں  تودوسرے بزرگ رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے کہا: ’’بھلائی کے کام میں  اسراف ہوتاہی نہیں ۔ اور تنگی کرنے کے بارے میں  حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : ’’اس سے مراد یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالٰی کے مقرر کئے ہوئے حقوق ادا کرنے میں  کمی کرے۔ مروی ہے کہ جس نے کسی حق کو منع کیا اُس نے اِقتار یعنی تنگی کی اور جس نے ناحق میں  خرچ کیا اس نے اسراف کیا۔
	 بعض مفسرین کا قول ہے کہ اس آیت میں  جن حضرات کا ذکر ہے وہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بڑے بڑے صحابہ ٔ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ ہیں  جو لذت اور ناز و نعمت میں  زندگی بسر کرنے کے لئے کھاتے، نہ خوبصورتی اور زینت کے لئے پہنتے۔ بھوک روکنا، ستر چھپانا، سردی گرمی کی تکلیف سے بچنا بس یہی ان کا مقصد تھا۔(1)
ضروریاتِ زندگی میں  صحابہ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کا زُہد :
	صحابہ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ دنیا سے بے رغبت رہتے اوردنیا سے صرف اتنا ہی لیا کرتے تھے جتنا ان کی اہم ضروریاتِ زندگی کے لئے کافی ہو،نیز وہ عیش و عشرت اور ناز ونعمت میں  زندگی بسر کرنے کی بجائے سادہ زندگی گزارتے اور اپنے نفس کو دنیا کی سختی اورمشقت برداشت کرنے کا عادی بناتے اور دُنْیَوی زندگی کے قیمتی لمحات کو اپنی آخرت کی زندگی بہتر سے بہتر بنانے میں  صَرف کیاکرتے تھے۔حضرت حسن بصری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : میں  نے ستر بدری
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۷، ص۸۱۰، خازن، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۷، ۳/۳۷۹، ملتقطاً۔