کافروں سے جدا نہ ہونے والا ہے،بیشک جہنم بہت ہی بری ٹھہرنے اور قیام کرنے کی جگہ ہے۔(1)
آیت ’’ وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا‘‘ سے معلوم ہونے والی باتیں :
اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں ،
(1)… اپنی عبادت و ریاضت پر بھروسہ کرنے کی بجائے اللہ تعالٰی کی رحمت اور کرم پر بھروسہ کرنا چاہئے اور اس کی خفیہ تدبیر سے خوفزدہ رہنا چاہئے کہ یہ کامل ایمان والوں کا طریقہ ہے۔ چنانچہ امام عبداللہ بن احمد نسفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :ان کی اس دعا سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ وہ کثرتِ عبادت کے باوجود اللہ تعالٰی کا خوف رکھتے ہیں اور اس کی بارگاہ میں عاجزی،اِنکساری اور گریہ و زاری کرتے ہیں ۔(2)
(1)…علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :اس آیت میں یہ بتایاگیا ہے کہ کامل ایمان والے مخلوق کے ساتھ اچھا معاملہ کرنے اور اللہ تعالٰی کی عبادت میں خوب کوشش کرنے کے باوجود اللہ تعالٰی کے عذاب سے بہت ڈرتے ہیں اور اپنے اوپر سے عذاب پھیر دئیے جانے کی گریہ و زاری کے ساتھ التجائیں کرتے ہیں ،گویا کہ وہ انتہائی عبادت گزاری اور پرہیزگاری کے باوجود جب اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں تو خود کو گناہگاروں میں شمار کرتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے اعمال کو شمار نہیں کرتے اور اپنے احوال پر بھروسہ نہیں کرتے۔(3)
(1)…بطورِ خاص نماز کے بعد دعا کرنی چاہئے، نماز پڑھنے والا تنہا نماز پڑھے یا جماعت کے ساتھ، امام ہو یا مقتدی اور عمومی طور پرجب بھی موقع ملے اللہ تعالٰی سے دعا مانگتے رہنا چاہئے۔
وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا(۶۷)
ترجمۂکنزالایمان: اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں نہ حد سے بڑھیں اور نہ تنگی کریں اور ان دونوں کے بیچ اعتدال پر رہیں ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۵-۶۶، ص۸۱۰، روح البیان، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۵-۶۶، ۶/۲۴۳، ملتقطاً۔
2…مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۵، ص۸۱۰۔
3…روح البیان، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۶، ۶/۲۴۳-۲۴۴۔