Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
52 - 608
کامل ایمان والوں  کے اوصاف پیدا ہوں  اور آخرت کے لئے نیکیوں  کا کچھ ذخیرہ جمع ہو۔ایک اور مقام پر کامل ایمان والوں  کا وصف بیان کرتے ہوئے اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے :
’’تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا٘-وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ‘‘(1)
ترجمۂکنزُالعِرفان: ان کی کروٹیں  ان کی خوابگاہوں  سے جدا رہتی ہیں  اور وہ ڈرتے اور امید کرتے اپنے رب کو پکارتے ہیں اور ہمارے دئیے ہوئے میں سے خیرات کرتے ہیں ۔
	اور پرہیزگار لوگوں  کی جزا اور ان کا وصف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتاہے: ’’اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ(۱۵) اٰخِذِیْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْؕ-اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِیْنَؕ(۱۶) كَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَهْجَعُوْنَ(۱۷)وَ بِالْاَسْحَارِ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ‘‘(2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک پرہیزگار لوگ باغوں  اور چشموں  میں  ہوں  گے۔ اپنے رب کی عطائیں  لیتے ہوئے، بیشک وہ اس سے پہلے نیکیاں  کرنے والے تھے۔ وہ رات میں  کم سویا کرتے تھے۔ اور رات کے آخری پہروں  میں  بخشش  مانگتے تھے۔
	اللہ تعالٰی تمام مسلمانوں  کو دن میں  بھی اور رات میں  بھی اپنی عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔
رات میں  عبادت کرنے کے فوائد:
	یاد رہے کہ جو عبادت جس وقت کرنا فرض ہے اسے اس وقت ہی کیا جائے گا البتہ نفلی عبادت رات میں  کرنا دن کے مقابلے میں  زیادہ فائدہ مند ہے، اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ رات میں  کچھ دیر سونے کے بعد اٹھ کر عبادت کرنا دن کی نماز کے مقابلے میں  زبان اوردل کے درمیان زیادہ موافقت کا سبب ہے۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس وقت قرآن پاک کی تلاوت کرنے اور سمجھنے میں  زیادہ دل جمعی حاصل ہوتی ہے کیونکہ اس وقت شورو غل نہیں  ہوتا بلکہ سکون اور اطمینان ہو تا ہے جو کہ دل جمعی حاصل ہونے کا بہت بڑ اذریعہ ہے۔تیسرا فائدہ یہ ہے کہ اس وقت عبادت کرنے میں  کامل اخلاص نصیب ہوتا ہے اور عبادت میں  ریا کاری، نمود و نمائش اور دکھلاوا نہیں  ہوتا کیونکہ عام طور پراس وقت لوگ بیدار نہیں  
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…السجدۃ:۱۶۔
2…الذاریات:۱۵۔۱۸۔