Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
51 - 608
کی کوشش ہی کرنی چاہئے اور ا س کی جاہلانہ گفتگو کے جواب میں  اگر کوئی بات کریں  تو وہ ایسی ہو جس میں  گناہ کا کوئی پہلو نہ ہو اور وہ اس جاہل کے لئے اَذِیَّت کاباعث بھی نہ ہو،ترغیب اور تربیت کے لئے یہاں  ایک واقعہ ملاحظہ ہو،چنانچہ حضرت نعمان بن مقرن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں  :حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں  ایک شخص نے دوسرے شخص کو برا بھلا کہا تو جسے برا بھلا کہا گیا، اس نے یہ کہنا شروع کر دیا:تم پر سلام ہو۔اس پررسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’سنو! تم دونوں  کے درمیان ایک فرشتہ ہے جو (اے برا بھلا کہے گئے شخص!) تمہاری طرف سے دفاع کرتا ہے،جب یہ تمہیں  برا بھلاکہتا ہے تو وہ اس سے کہتا ہے: نہیں ، بلکہ تم ایسے ہو اور تم ا س کے زیادہ حق دار ہو، اور جب تم اس سے کہتے ہو’’تم پر سلام ہو‘‘ تو فرشتہ کہتا ہے: نہیں ، بلکہ تمہارے لئے سلامتی ہو اور تم ا س کے زیادہ حق دار ہو۔(1)
وَ الَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا(۶۴)
ترجمۂکنزالایمان: اور وہ جو رات کاٹتے ہیں  اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام میں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہ جو اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام کی حالت میں  رات گزارتے ہیں ۔
{وَ الَّذِیْنَ: اور وہ جو۔} اس سے پہلی آیت میں  کامل ایمان والوں  کی مجلسی زندگی اور مخلوق کے ساتھ پاکیزہ معاملے کا بیان ہوا اور اب یہاں  سے اُن کی خَلوَت کی زندگانی اور حق کے ساتھ رابطے کے بارے میں  بیان کیاجارہا ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ کامل ایمان والوں  کی خلوت و تنہائی کا حال یہ ہے کہ ان کی رات اللہ تعالٰی کے لئے اپنے چہروں  کے بل سجدہ کرتے اور اپنے قدموں  پر قیام کرتے ہوئے گزرتی ہے۔(2)
رات میں  عبادت کرنے کی ترغیب:
	ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ آرام کرنے کے بعد رات میں  کچھ نہ کچھ نفلی عبادت ضرور کیا کرے تاکہ اس میں 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسند امام احمد، حدیث النعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ، ۹/۱۹۱، الحدیث: ۲۳۸۰۶۔
2…خازن، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۴، ۳/۳۷۸۔