Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
50 - 608
سکون اور وقار کے ساتھ چلنے کی ترغیب:
	اس آیت سے معلوم ہوا کہ مومن کو آہستہ،سکون و اطمینان اور وقار کے ساتھ چلنا چاہئے۔ اَحادیث میں  بھی اس چیز کی ترغیب دی گئی ہے، چنانچہ یہاں3اَحادیث ملاحظہ ہوں :
(1)…حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’تمہارے لئے سکون (سے چلنا) ضروری ہے کیونکہ دوڑنے میں  کوئی نیکی نہیں  ہے۔(1)
(2)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’تیز چلنا ایمان والوں  کی ہیبت ختم کر دیتا ہے۔(2)
(3)…حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’تیز چلنا چہرے کے حسن کو ختم کر دیتا ہے۔(3)
	اللہ تعالٰی تمام مسلمانوں  کو اس طرح چلنے کی توفیق عطا فرما ئے جو شریعت کا پسندیدہ طریقہ ہے اور اس طرح چلنے سے محفوظ فرمائے جس سے شریعت نے منع کیا اور اسے ناپسند فرما یا ہے، اٰمین۔
{وَ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ: اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں ۔} یہاں  یہ بیان ہو اکہ کامل ایمان والے دوسروں  کے ساتھ کیسے پیش آتے ہیں ، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں  اور کوئی ناگوار کلمہ یا بے ہودہ یا ادب و تہذیب کے خلاف بات کہتے ہیں  تو کہتے ہیں  ’’بس سلام‘‘اس سے مراد مُتارَکَت کا سلام ہے اور معنی یہ ہے کہ جاہلوں  کے ساتھ جھگڑا کرنے سے اِعراض کرتے ہیں  یا اس کے یہ معنی ہیں  کہ ایسی بات کہتے ہیں  جو درست ہو اور اس میں  ایذا اور گناہ سے سالم رہیں ۔(4)
جاہلانہ گفتگو کرنے والے سے سلوک:
	اس آیت سے معلوم ہو اکہ جب کسی معاملے میں  کوئی جاہل جھگڑا کرنا شروع کرے تو اس سے اعراض کرنے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری، کتاب الحج، باب امر النبی صلی اللہ علیہ وسلم بالسکینۃ عند الافاضۃ۔۔۔ الخ، ۱/۵۵۸، الحدیث: ۱۶۷۱۔
2…حلیۃ الاولیاء، ذکر جماعۃ من العارفین العراقیین، محمد بن یعقوب، ۱۰/۳۰۸، الحدیث: ۱۵۳۰۹۔
3…کنز العمال،کتاب المعیشۃ والآداب،قسم الاقوال، آداب المشی، ۸/۱۷۵،الحدیث:۴۱۶۱۴،الجزء الخامس عشر۔
4…ابو سعود، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۳، ۴/۱۴۸۔