Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
49 - 608
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور رحمن کے وہ بندے جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں  اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں  تو کہتے ہیں  ’’بس سلام‘‘۔
{وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ: اور رحمن کے وہ بندے۔} ا س سے پہلی آیات میں  کفار و منافقین کے احوال اور ان کا انجام ذکر ہوا،اب یہاں  سے کامل مومنین کے تقریباً12اَوصاف بیان کئے گئے ہیں ،ان کا خلاصہ یہ ہے۔ (1)وہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔(2) جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں  تو کہتے ہیں  ’’بس سلام‘‘(3) وہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے لیے سجدے اور قیام کی حالت میں  رات گزارتے ہیں ۔(4)جہنم کا عذاب پھر جانے کی اللہ تعالٰی سے دعائیں  کرتے ہیں ۔ (5) اِعتدا ل سے خرچ کرتے ہیں ،اس میں نہ حد سے بڑھتے ہیں  اور نہ تنگی کرتے ہیں ۔ (6) اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کی عبادت نہیں  کرتے۔ (7) جس جان کو ناحق قتل کرنا اللہ تعالٰی نے حرام فرمایا ہے، اسے قتل نہیں  کرتے۔(8) بدکاری نہیں  کرتے۔ (9) جھوٹی گواہی نہیں  دیتے۔(10)جب کسی بیہودہ بات کے پاس سے گزرتے ہیں  تواپنی عزت سنبھالتے ہوئے گزر جاتے ہیں ۔(11) جب انہیں  ان کے رب عَزَّوَجَلَّ کی آیتوں  کے ساتھ نصیحت کی جاتی ہے تو ان پر بہرے اندھے ہوکر نہیں  گرتے۔(12) وہ یوں  دعا کرتے ہیں : اے ہمارے رب! عَزَّوَجَلَّ، ہماری بیویوں  اور ہماری اولاد سے ہمیں آنکھوں  کی ٹھنڈک عطا فرمااور ہمیں  پرہیزگاروں  کا پیشوا بنا۔
{اَلَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا: جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔} اس آیت میں  بیان ہوا کہ کامل ایمان والوں  کا اپنے نفس کے ساتھ معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔ مُتکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں  زور سے مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں  چلتے۔(1)  کہ یہ متکبرین کی شان ہے اور شریعت نے اس سے منع فرمایا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالٰی ہے:
’’وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا‘‘(2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور زمین میں  اتراتے ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں  پہاڑوں  کو پہنچ جائے گا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۳، ص۸۰۹، ملخصاً۔
2…بنی اسرائیل:۳۷۔