زائد ہے کہ وہ اس کی ماں کابھی حاکم وآقا ہے(1)۔(2)
{اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَ: کہ میرا اور اپنے والدین کا شکرادا کرو۔} یہ وہ تاکید ہے جس کا ذکر اوپر فرمایا تھا اور اس سے یہ بھی معلوم ہو ا کہ والدین کا مقام انتہائی بلند ہے کیونکہ الله تعالیٰ نے اپنے ساتھ بندے کے والدین کا ذکر فرمایا اور ایک ساتھ دونو ں کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا،اب اگر کوئی بد قسمت اپنے والدین کی خدمت نہ کرے اور انہیں تکلیفیں دے تو یہ ا س کی بد نصیبی اور محرومی ہے ۔حضرت سفیان بن عیینہ رَحْمَۃُ الله تَعَالٰی عَلَیْہِ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جس نے پنج گانہ نمازیں ادا کیں وہ الله تعالیٰ کا شکر بجالایا اور جس نے پنج گانہ نمازوں کے بعد والدین کے لئے دعائیں کیں تو اس نے والدین کی شکر گزاری کی۔ (3)
وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌۙ-فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا٘-وَّ اتَّبِـعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّۚ-ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۱۵)
ترجمۂکنزالایمان: اور اگر وہ دونوں تجھ سے کوشش کریں کہ میرا شریک ٹھہرائے ایسی چیز کو جس کا تجھے علم نہیں تو اُن کا کہنا نہ مان اور دنیا میں اچھی طرح اُن کا ساتھ دے اور اس کی راہ چل جو میری طرف رجوع لایا پھر میری ہی طرف تمہیں پھر آنا ہے تو میں بتادوں گا جو تم کرتے تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگر وہ دونوں تجھ پر کوشش کریں کہ تو کسی ایسی چیز کو میراشریک ٹھہرائے جس کا تجھے علم نہیں تو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…فتاوی رضویہ، رسالہ: الحقوق لطرح العقوق، ۲۴/۳۸۷-۳۹۰، ملتقطاً۔
2…یہ رسالہ تسہیل وتخریج کے ساتھ بنام ’’والدین زوجین اور اساتذہ کے حقوق‘‘ مکتبۃ المدینہ سے جداگانہ بھی شائع ہوا ہے، وہاں سے خرید کر اس کا مطالعہ فرمائیں۔
3…بغوی، لقمان، تحت الآیۃ: ۱۴، ۳/۴۲۳۔