ماں کاحق باپ کے حق پرمقدم ہے:
اعلیٰ حضرت، مُجدّدِدین وملت،شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِرَحْمَۃُ الرَّحْمٰن ارشاد فرماتے ہیں :اولاد پرماں باپ کا حق نہایت عظیم ہے اور ماں کاحق اس سے اعظم، قَالَ الله تَعَالٰی:
’’وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ اِحْسٰنًاؕ-حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًاؕ-وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا‘‘
ترجمہ: اور ہم نے تاکید کی آدمی کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کی اسے پیٹ میں رکھے رہی اس کی ماں تکلیف سے اور اسے جنا تکلیف سے اور اس کاپیٹ میں رہنا اور دودھ چھٹنا تیس مہینے میں ہے۔
اس آیہ کریمہ میں رب العزت نے ماں باپ دونوں کے حق میں تاکید فرماکر ماں کو پھر خاص الگ کرکے گنا اور اس کی ان سختیوں اور تکلیفوں کو شمار فرمایا جو اسے حمل وولادت اور دوبرس تک اپنے خون کاعطر پلانے میں پیش آئیں جن کے باعث اس کاحق بہت اَشد واَعظم ہوگیا مگر اس زیادت کے یہ معنی ہیں کہ خدمت میں ، دینے میں باپ پرماں کوترجیح دے مثلاً سوروپے ہیں اور کوئی خاص وجہ مانعِ تفضیلِ مادر (یعنی ماں کو فضیلت دینے میں رکاوٹ) نہیں توباپ کو پچیس دے ماں کو پچھتر، یاماں باپ دونوں نے ایک ساتھ پانی مانگا توپہلے ماں کو پلائے پھرباپ کو، یادونوں سفر سے آئے ہیں پہلے ماں کے پاؤں دبائے پھرباپ کے، وَ عَلٰی ہٰذَا الْقِیَاس، نہ یہ کہ اگروالدین میں باہم تنازع ہو توماں کا ساتھ دے کر مَعَاذَ الله باپ کے درپے ایذا ہو یا اس پر کسی طرح درشتی کرے یااسے جواب دے یابے اَدبانہ آنکھ ملا کر بات کرے، یہ سب باتیں حرام اور الله عَزَّوَجَلَّ کی مَعْصِیَت ہیں ، (اس میں ) نہ ماں کی اطاعت ہے نہ باپ کی، تو اسے ماں باپ میں سے کسی کاایساساتھ دیناہرگز جائزنہیں ، وہ دونوں اس کی جنت ونار ہیں ، جسے ایذادے گا دوزخ کامستحق ہوگا وَ الْعِیَاذُ بِ الله، مَعْصِیَت ِخالق میں کسی کی اطاعت نہیں ، اگرمثلاً ماں چاہتی ہے کہ یہ باپ کو کسی طرح کاآزار پہنچائے اور یہ نہیں مانتا تو وہ ناراض ہوتی ہے، ہونے دے اور ہرگز نہ مانے، ایسے ہی باپ کی طرف سے ماں کے معاملہ میں ، ان کی ایسی ناراضیاں کچھ قابلِ لحاظ نہ ہوں گی کہ یہ ان کی نری زیادتی ہے کہ اس سے الله تعالیٰ کی نافرمانی چاہتے ہیں بلکہ ہمارے علمائے کرام نے یوں تقسیم فرمائی ہے کہ خدمت میں ماں کوترجیح ہے جس کی مثالیں ہم لکھ آئے ہیں ، اور تعظیم باپ کی