Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
48 - 608
تو وہ دوسرے میں  ادا کرلے۔ یہ رات اور دن کا ایک دوسرے کے بعد آنا اور قائم مقام ہونا اللہ تعالٰی کی قدرت و حکمت کی دلیل ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ اللہ وہی ہے جس نے رات اور دن میں  ایسانظام قائم فرمایا کہ جب رات آتی ہے تو دن چلا جاتا ہے اور جب دن آتا ہے تو رات چلی جاتی ہے اور اس نے کوئی دن ایسانہیں  بنایا جس کے لئے رات نہ ہو اور کوئی رات ایسی نہیں  بنائی جس کے لئے دن نہ ہو تاکہ لوگوں  کو سالوں  کی گنتی معلوم رہے اور انہیں  وہ وقت معلوم ہو جس میں  کاروباروغیرہ کے لئے نکلنا ہے اور وہ وقت بھی معلوم ہو جس میں  انہیں  راحت و آرام کرنا ہے اور یہ عظیم الشّان نظام اللہ تعالٰی کی قدرت و حکمت کے کمال کی دلیل ہے۔(1) 
{لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّكَّرَ: اس شخص کیلئے جو نصیحت حاصل کرنا چاہتا ہے۔} یعنی رات اور دن کی تبدیلی اور ان کا ایک دوسرے کے قائم مقام ہونے میں  اس شخص کے لئے اللہ تعالٰی کی قدرت و حکمت پر نشانی موجود ہے جو اللہ تعالٰی کی نعمتوں  اور اس کی بنائی ہوئی چیزوں  میں  غورو فکر کر کے نصیحت حاصل کرنا چاہتا ہے، جب وہ ان میں  غورو فکر کرے گا تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ ان چیزوں  کو پیدا کرنے اور ایسے بہترین نظام کو قائم کرنے کے لئے کوئی ایک ایسی ہستی ہونا ضروری ہے جو مکمل قدرت رکھتی ہو،کامل حکمت والی ہو، واجب بِالذّات ہو اوربندوں  پر رحیم و مہربان ہو،اسی طرح ان میں  اس شخص کے لئے بھی اللہ تعالٰی کی قدرت و حکمت کی نشانی موجود ہے جو اللہ تعالٰی کی اطاعت و فرمانبرداری کر کے رات اور دن میں  موجود اللہ تعالٰی کی نعمتوں  کا شکر ادا کرنا چاہتا ہے۔(2)
وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)
ترجمۂکنزالایمان: اور رحمن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں  اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں  تو کہتے ہیں  بس سلام۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۲، ۳/۳۷۸، روح البیان، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۲، ۶/۲۳۸، ملتقطاً۔
2…روح البیان، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۲، ۶/۲۳۸۔