ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم نے آدمی کو اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید فرمائی۔ اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری برداشت کرتے ہوئے اسے پیٹ میں اٹھائے رکھا اور اس کا دودھ چھڑانے کی مدت دو سال میں ہے کہ میرا اور اپنے والدین کا شکرادا کرو۔میری ہی طرف لوٹنا ہے۔
{وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ: اور ہم نے آدمی کو اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید فرمائی۔} اس آیت کی ابتدا میں فرمایا کہ الله تعالیٰ نے آدمی کو اپنے ماں باپ کا فرمانبردار رہنے ا ور ان کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی تاکید فرمائی۔ پھراس کاسبب بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری برداشت کرتے ہوئے اسے پیٹ میں اٹھائے رکھا،یعنی اس کی ماں کی کمزوری میں ہر وقت اضافہ ہوتا رہتا ہے ، جتنا حمل بڑھتا جاتا ہے اور بوجھ زیادہ ہوتا ہے اتنا ہی کمزوری میں اضافہ ہوتا ہے ، عورت کو حاملہ ہونے کے بعد کمزوری ،تھکن اور مشقّتیں پہنچتی رہتی ہیں ، حمل خود کمزور کرنے والاہے، دردِ زِہ کمزوری پر کمزوری ہے اور وضعِ حمل اس پر اور مزید شدت ہے اور دودھ پلانا بھی مستقل مشقت کا ذریعہ ہے ۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ بچے کا دودھ چھڑانے کی مدت ولادت کے وقت سے لے کر دو سال تک ہے۔(1)
ماں کو باپ پر تین درجے فضیلت حاصل ہے:
یہاں ماں کے تین درجے بیان فرمائے گئے ایک یہ کہ اس نے کمزوری پر کمزوری برداشت کی،دوسرا یہ کہ اس نے بچے کو پیٹ میں رکھا،تیسرا یہ کہ اسے دودھ پلایا،اس سے معلوم ہوا کہ ماں کو باپ پر تین درجے فضیلت حاصل ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بھی ماں کی باپ سے تین درجے زیادہ فضیلت بیان فرمائی ہے،چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ایک شخص نے سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں آکر عرض کی:میری اچھی خدمت کاسب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ ارشاد فرمایا’’تمہاری ماں ۔اس نے عرض کی: پھر کون ہے؟ ارشاد فرمایا، ’’تمہاری ماں ‘‘،اس نے دوبارہ عرض کی: پھر کون ہے؟ ارشاد فرمایا’’تمہاری ماں ۔عرض کی: پھر کون ہے؟ ارشاد فرمایا’’تمہاراباپ۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…جلالین، لقمان، تحت الآیۃ: ۱۴، ص۳۴۶-۳۴۷، خازن، لقمان، تحت الآیۃ: ۱۴، ۳/۴۷۰، مدارک، لقمان، تحت الآیۃ: ۱۴، ص۹۱۷، ملتقطاً۔
2…صحیح بخاری، کتاب الادب، باب من احقّ الناس بحسن الصحبۃ، ۴/۹۳، الحدیث: ۵۹۷۱۔