(2)… انسان پہلے اپنے گھر والوں کو وعظ و نصیحت کرے پھر دوسروں کو۔
(3)… نصیحت نرم الفاظ میں ہونی چاہیے۔آپ نے اسے ’’اے میرے بچے‘‘ فرما کر خطاب فرمایا۔
(4)… گزشتہ بزرگوں کی تعلیم یاد دلانا ، ان کے اقوال نقل کرنا سنت ِالٰہیہ ہے۔
حضرت لقمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی اپنے بیٹے کو نصیحتیں :
حضرت حسن بصری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’ حضرت لقمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے بیٹے سے کہا میں نے بڑے پتھر،لوہااورہروزنی چیزاٹھائی ہے لیکن میں نے برے پڑوسی سے بھاری چیزکوئی نہیں اٹھائی۔ میں نے ہر کڑواہٹ دیکھی ہے مگرفقرسے زیادہ کڑوی چیز نہیں دیکھی۔اے میرے بیٹے جاہل کوقاصد بناکرنہ بھیج، اگرتوکسی صاحب ِ حکمت کونہ پائے تواپناقاصد خود بن جا۔۔۔ اے میرے بیٹے جنازوں میں حاضر ہواکراورشادیوں میں نہ جایا کر کیونکہ جنازے تجھے آخرت کی یاددلاتے ہیں اورشادی تجھے دنیاکی خواہش دلاتی ہے۔ اے میرے بیٹے سیر پر سیر ہو کرنہ کھا اگر تو اس کھانے کوکتے کے سامنے پھینک دے تویہ اس سے بہترہے کہ توخود اسے کھائے ۔اے میرے بیٹے اتنامیٹھابھی نہ بن کہ تجھے نگل لیا جائے اورنہ اتناکڑواہوجاکہ تجھے باہرپھینک دیاجائے ۔(1)
وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِۚ-حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَؕ-اِلَیَّ الْمَصِیْرُ(۱۴)
ترجمۂکنزالایمان: اور ہم نے آدمی کو اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید فرمائی اُس کی ماں نے اُسے پیٹ میں رکھا کمزوری پر کمزوری جھیلتی ہوئی اور اس کا دودھ چھوٹنا دو برس میں ہے یہ کہ حق مان میرا اور اپنے ماں باپ کا آخر مجھی تک آنا ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الایمان، الرابع والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، آثار وحکایات فی فضل الصدق۔۔۔ الخ، ۴/۲۳۱، روایت نمبر: ۴۸۹۱۔