Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
486 - 608
وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ یَعِظُهٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِﳳ-اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ(۱۳)
ترجمۂکنزالایمان: اور یاد کرو جب لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا اور وہ نصیحت کرتا تھا اے میرے بیٹے الله کا کسی کو شریک نہ کرنا بیشک شرک بڑا ظلم ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یاد کرو جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: اے میرے بیٹے! کسی کو الله کا شریک نہ کرنا، بیشک شرک یقینا بڑا ظلم ہے۔
{وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ یَعِظُهٗ: اور یاد کرو جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:} حضرت لقمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے بیٹے کا نام انعم تھااورایک قول کے مطابق اشکم تھا ۔ انسان کا اعلیٰ مرتبہ یہ ہے کہ وہ خود کامل ہو اور دوسرے کی تکمیل کرے ،تو حضرت لقمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کا کامل ہونا تو ’’اٰتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ‘‘ میں  بیان فرما دیا اور دوسرے کی تکمیل کرنا ’’وَ هُوَ یَعِظُهٗ‘‘ سے ظاہر فرمایا۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے بیٹے کونصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ’’اے میرے بیٹے! کسی کو الله کا شریک نہ کرنا کیونکہ اس میں  جو عبادت کا مستحق نہیں  اسے مستحقِ عبادت کے برابر قرار دینا ہے اور عبادت کو اس کے محل کے خلاف رکھنا ہے اور یہ دونوں باتیں  عظیم ظلم ہیں ۔(1)
آیت ’’وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:
	اس آیت سے چند مسئلے معلوم ہوئے ،
(1)… اس سے معلوم ہوا کہ نصیحت کرنے میں  گھر والوں  اور قریب تر لوگوں  کو مقدم کرنا چاہئے اور نصیحت کی ابتدا عقائد کی اصلاح سے ہونی چاہیے خصوصاً انہیں  الله تعالیٰ کی وحدانیّت کے بارے میں  بتانا چاہئے اور سب سے پہلے انہیں  شرک سے بچانا چاہیے کہ یہ نہایت اہم ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، لقمان، تحت الآیۃ: ۱۳، ۳/۴۷۰۔