(2)…علماء کے ساتھ لازمی طور پر بیٹھا کرو اور حکمت والوں کا کلام سنا کرو کیونکہ الله تعالیٰ حکمت کے نور سے مردہ دل کو اسی طرح زندہ کرتا ہے جس طرح مردہ زمین کو بارش کے قطروں سے ۔(1)
(3)…تم اس مرغے سے زیادہ عاجز نہ ہو جاؤ جو صبح سویرے آواز لگاتا ہے جبکہ تم اپنے بستر پر سو رہے ہوتے ہو۔(2)
رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے حکمت بھرے ارشادات:
یوں تو سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ہر ارشاد حکمت کے انمول موتیوں سے بھرا ہوا ہے،البتہ موضوع کی مناسبت سے یہاں سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے4حکمت بھرے ارشادات ملاحظہ ہوں :
(1)…حکمت کی اصل الله تعالیٰ سے ڈرنا ہے۔(3)
(2)…جو تھوڑا ہو اور کافی ہو وہ اس سے اچھا ہے جو زیادہ ہو اور غافل کردے۔(4)
(3)… تقویٰ اختیار کرو تو لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار ہو جاؤ گے اور قناعت اختیار کرو تو سب سے زیادہ شکر گزار بن جاؤ گے۔(5)
(4)…خوش نصیب وہ ہے جودوسروں سے نصیحت حاصل کرے۔(6)
{وَ مَنْ یَّشْكُرْ: اور جو شکر اداکرے۔} یعنی جو الله تعالیٰ کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرتا ہے تووہ اپنی ذات کے بھلے کیلئے ہی شکر کرتا ہے کیونکہ شکر کرنے سے نعمت زیادہ ہوتی ہے اوربندے کو ثواب ملتا ہے اور جو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی نعمتوں کی ناشکری کرے تو ا س کاوبال اسی پر ہے کیونکہ الله تعالیٰ اس سے اور اس کے شکر سے بے پرواہ ہے اور وہ اپنی ذات و صفات اور اَفعال میں حمد کے لائق ہے اگرچہ کوئی ا س کی تعریف نہ کرے۔(7)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…معجم الکبیر ، صدی بن عجلان ابو امامۃ الباہلی ۔۔۔ الخ ، عبید اللّٰہ بن زحر عن علی بن یزید ۔۔۔ الخ ، ۸ / ۱۹۹ ، الحدیث: ۷۸۱۰۔
2…شرح السنہ، ابواب النوافل، باب احیاء آخر اللیل وفضلہ، ۲/۴۸۰۔
3…شعب الایمان، الحادی عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ۱/۴۷۰، الحدیث: ۷۴۴۔
4…مسند امام احمد، مسند الانصار، باقی حدیث ابی الدرداء رضی اللّٰہ تعالی عنہ، ۸/۱۶۸، الحدیث: ۲۱۷۸۰۔
5…ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب الورع والتقوی، ۴/۴۷۵، الحدیث: ۴۲۱۷۔
6…مسلم، کتاب القدر، باب کیفیّۃ الخلق الادمیّ فی بطن امّہ۔۔۔ الخ، ص۱۴۲۱، الحدیث: ۳(۲۶۴۵)۔
7…روح البیان، لقمان، تحت الآیۃ: ۱۲، ۷/۷۵، مدارک، لقمان، تحت الآیۃ: ۱۲، ص۹۱۷، جلالین، لقمان، تحت الآیۃ: ۱۲، ص۳۴۶، ملتقطاً۔